ہوٹلوں میں انسانوں کی جگہ روبوٹس؟ روزگار کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی

0
1

دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں وہ کام بھی مشینیں سنبھالنے لگی ہیں جو کبھی صرف انسانوں کی ذمہ داری سمجھے جاتے تھے۔ جاپان اس تبدیلی کی نمایاں مثال بن کر سامنے آیا ہے، جہاں ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں سروس روبوٹس کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ روبوٹس کھانا اور سامان پہنچانے، گاہکوں کی رہنمائی اور دیگر معمول کے کاموں میں انسانوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ جاپان میں اس رجحان کی ایک بڑی وجہ افرادی قوت کی شدید کمی بھی ہے۔

یہ صورتحال صرف جاپان تک محدود نہیں۔ دنیا بھر میں ہوٹل اور ریسٹورنٹ انڈسٹری بڑھتی ہوئی مزدوری اور عملے کی کمی کے باعث روبوٹکس اور آٹومیشن کی طرف بڑھ رہی ہے۔ صنعت میں ایسے روبوٹس سامنے آ رہے ہیں جو کھانا میز تک پہنچانے، سامان منتقل کرنے، صفائی اور دیگر بار بار دہرائے جانے والے کام انجام دے سکتے ہیں۔

ترقی پذیر ممالک کے مزدوروں کے لیے بڑا سوال

یہ تبدیلی پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے خاص طور پر اہم ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں ہوٹل، ریسٹورنٹ، صفائی، کچن اور ڈیلیوری سے وابستہ لاکھوں افراد بیرونِ ملک روزگار حاصل کرتے ہیں۔ اگر ان شعبوں میں مشینوں اور روبوٹس کا استعمال بڑے پیمانے پر بڑھتا ہے تو کم مہارت رکھنے والی ملازمتوں کے مواقع پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

مثال کے طور پر آج ایک ہوٹل میں گاہک کا سامان کمرے تک پہنچانے کے لیے ملازم موجود ہے، لیکن مستقبل میں یہی کام ایک ڈلیوری روبوٹ کر سکتا ہے۔ اسی طرح کھانا میز تک پہنچانے، گاہک کو بنیادی معلومات فراہم کرنے یا بعض صفائی کے کاموں کے لیے بھی روبوٹس استعمال کیے جا رہے ہیں۔

یعنی جس کام کے لیے پہلے ایک یا دو ملازمین درکار ہوتے تھے، وہاں مستقبل میں ایک مشین اور اسے کنٹرول کرنے والا محدود عملہ کافی ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی

پاکستان کے لیے یہ مسئلہ اس لیے زیادہ سنگین ہے کہ ملک پہلے ہی روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے چیلنج سے دوچار ہے۔ آئی ایم ایف کے 2026 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.9 فیصد ہے، جبکہ حکومتی قرض کا حجم بھی معیشت پر نمایاں دباؤ ڈال رہا ہے۔

ایسے میں اگر عالمی مارکیٹ میں کم ہنر والی ملازمتوں کی تعداد کم ہونے لگی اور پاکستان کی بڑی افرادی قوت کو بیرونِ ملک وہی روزگار نہ ملا جو ماضی میں دستیاب تھا تو اس کے اثرات صرف بے روزگاری تک محدود نہیں رہیں گے۔

ترسیلاتِ زر، گھریلو آمدنی اور لاکھوں خاندانوں کے معاشی مستقبل پر بھی اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔

اصل سوال روبوٹ نہیں، ہماری تیاری ہے

ٹیکنالوجی کو روکنا شاید ممکن نہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اس تبدیلی کے لیے کتنا تیار ہے؟

اگر دنیا ہوٹلوں میں ویٹر کے بجائے روبوٹ، فیکٹریوں میں مزدور کے بجائے خودکار مشینیں اور دفاتر میں انسانوں کے بجائے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے تو پاکستان کو بھی اپنی نوجوان آبادی کو نئی مہارتیں دینے کی ضرورت ہے۔

ورنہ خدشہ ہے کہ مستقبل میں مسئلہ صرف یہ نہیں ہوگا کہ “نوکریاں کم ہو رہی ہیں” بلکہ سوال یہ ہوگا کہ “نوجوانوں کے پاس وہ کون سی مہارتیں ہیں جن کی دنیا کو ضرورت ہے؟”

پاکستان کو فوری طور پر ٹیکنیکل تعلیم، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، ڈیجیٹل اسکلز، زبانوں اور جدید پیشہ ورانہ تربیت پر توجہ دینا ہوگی تاکہ عالمی مارکیٹ میں پاکستانی مزدور صرف روایتی کم اجرت والی ملازمتوں تک محدود نہ رہیں۔

کیونکہ آنے والا دور صرف اس شخص کا نہیں ہوگا جو محنت کرتا ہے، بلکہ اس شخص کا ہوگا جو بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ اپنی مہارت بھی بدل سکتا ہے۔

اور اگر اس تبدیلی کے لیے آج سے تیاری نہ کی گئی تو روبوٹ شاید صرف ہوٹلوں میں ہی انسانوں کی جگہ نہیں لیں گے، بلکہ پاکستان کے لاکھوں نوجوانوں کے لیے دستیاب روزگار کے مواقع بھی بتدریج سکڑ سکتے ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا