پاکستان میں ہر سال سول اعزازات کی فہرست سامنے آتی ہے تو سینکڑوں نام دیکھ کر ایک سوال ضرور اٹھتا ہے: کیا واقعی ہمارے ملک میں غیر معمولی کارکردگی دکھانے والے افراد کی تعداد اتنی زیادہ ہے، یا ہم نے اعزازات کو بھی ایک معمول کی تقسیم بنا دیا ہے؟
اگر کسی شخص نے واقعی ملک کے لیے ایسی غیر معمولی خدمت انجام دی ہے جس پر پوری قوم کو فخر ہو تو اسے اعزاز دینا یقیناً قابلِ تحسین عمل ہے۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اعزاز کی قدر سے زیادہ اعزاز پانے والوں کی تعداد اہم دکھائی دینے لگے۔
مذکورہ معلومات کے مطابق سول اعزازات کے ساتھ بعض مراعات، نقد انعامات اور دیگر سہولتوں کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ اگر یہ مراعات واقعی نافذ العمل ہیں تو پھر یہ معاملہ محض ایک تمغے یا سرٹیفکیٹ تک محدود نہیں رہتا بلکہ قومی خزانے، ریاستی وسائل اور عوامی ترجیحات سے بھی جڑ جاتا ہے۔
سوال یہ ہے: حقدار کون ہے؟
پاکستان ایک ایسے معاشی بحران سے گزر رہا ہے جہاں عام شہری مہنگائی، بے روزگاری، کم آمدنی، بجلی اور گیس کے بھاری بلوں اور بنیادی سہولتوں کی کمی سے پریشان ہے۔
ایسے ماحول میں اگر ریاست اعلیٰ اعزازات کے نام پر مراعات اور مالی فوائد بھی دے رہی ہے تو عوام کا یہ سوال بالکل جائز ہے کہ:
ان اعزازات کے انتخاب کا معیار کیا ہے؟
کیا ہر ایوارڈ کے لیے واضح اور قابلِ پیمائش معیار موجود ہے؟
کیا نامزد افراد کی غیر جانب دارانہ جانچ پڑتال ہوتی ہے؟
کیا ان کے قومی خدمات کے ریکارڈ کو عوام کے سامنے رکھا جاتا ہے؟
اور سب سے اہم سوال:
کیا یہ اعزاز واقعی قوم کے بہترین لوگوں تک پہنچ رہے ہیں؟
اعزاز کی قدر تعداد سے نہیں، معیار سے ہوتی ہے
دنیا کے کسی بھی معاشرے میں قومی اعزاز ایک انتہائی باوقار علامت سمجھا جاتا ہے۔ اسے غیر معمولی خدمت، قربانی، تحقیق، فن، علم، کھیل، سماجی خدمت یا قومی کارکردگی کے اعتراف کے طور پر دیا جانا چاہیے۔
لیکن اگر اعزازات کی تعداد اتنی بڑھ جائے کہ عام شہری کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جائے کہ کس شخص نے ایسی غیر معمولی خدمت انجام دی جس کے اعتراف میں ریاست نے اسے قومی اعزاز دیا، تو اعزاز کی اصل قدر ہی متاثر ہونے لگتی ہے۔
یہ صورتحال مزید تشویشناک اس وقت بنتی ہے جب عوام کو یہ تاثر ملنے لگے کہ قومی اعزاز میرٹ کے بجائے تعلقات، اثر و رسوخ، سفارش یا طاقت کے مراکز کے قریب ہونے سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
اگر ایسا تاثر حقیقت پر مبنی نہیں تو حکومت کو اسے ختم کرنے کے لیے مکمل شفافیت دکھانی چاہیے۔
پاکستان کو تمغوں سے زیادہ کارکردگی چاہیے
ایک طرف پاکستان تعلیم، صحت، روزگار، برآمدات، ٹیکنالوجی اور معیشت کے میدان میں بڑے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، دوسری طرف ہم یہ بحث کر رہے ہیں کہ ریاستی اعزازات کن لوگوں کو اور کتنی تعداد میں دیے جا رہے ہیں۔
قوم کو صرف تمغے نہیں چاہئیں۔
قوم کو اچھے اسپتال، معیاری تعلیم، روزگار، انصاف، محفوظ سڑکیں، سستی بجلی، مضبوط معیشت اور مستقبل کا واضح راستہ چاہیے۔
اگر کوئی شخص واقعی ملک کے لیے غیر معمولی کارنامہ انجام دیتا ہے تو اسے اعزاز ضرور ملنا چاہیے، لیکن قومی اعزاز اتنا نایاب اور باوقار ہونا چاہیے کہ اسے حاصل کرنا خود ایک غیر معمولی کامیابی سمجھی جائے۔
ورنہ خطرہ یہ ہے کہ ہم اعزازات کی تعداد تو بڑھاتے رہیں گے، لیکن ان اعزازات کی وقعت کم ہوتی جائے گی۔
اور آخر میں ایک تلخ سوال:
اگر پاکستان میں واقعی اتنی بڑی تعداد میں غیر معمولی ذہانت، قابلیت اور قومی خدمات رکھنے والے افراد ہر سال پیدا ہو رہے ہیں، تو پھر ملک کی مجموعی کارکردگی دنیا کے سامنے اتنی کمزور کیوں نظر آتی ہے؟
یہ سوال کسی ایک فرد یا کسی ایک حکومت کے خلاف نہیں، بلکہ پورے نظام کے احتساب کا سوال ہے۔
پاکستان کو اب اعزازات کی تعداد نہیں، میرٹ اور کارکردگی کا معیار بلند کرنے کی ضرورت ہے۔
کیونکہ قومیں تمغوں کی تعداد سے عظیم نہیں بنتیں…
قومیں اس وقت عظیم بنتی ہیں جب ان کے ادارے، معیشت، تعلیم، انصاف اور عوام کی زندگی بہتر ہو۔
