17 اگست 1988 پاکستان کی تاریخ کے سیاہ ترین دنوں میں شمار ہوتا ہے۔

0
1

17 اگست 1988 پاکستان کی تاریخ کے سیاہ ترین دنوں میں شمار ہوتا ہے۔ بہاولپور سے اسلام آباد جانے والا پاک فضائیہ کا C-130 طیارہ چند منٹ بعد گر کر تباہ ہوا، جس میں صدر جنرل ضیاء الحق، چیئرمین جوائنٹ چیفس جنرل اختر عبدالرحمن، امریکی سفیر آرنلڈ ریپیل اور دیگر اعلیٰ فوجی و سرکاری شخصیات سمیت 30 افراد جاں بحق ہوئے۔

اس واقعے کے محرکات پر بات کرتے ہوئے ایک بات انتہائی واضح رکھنا ضروری ہے: آج تک کسی ایک سازشی گروہ یا ملک کو قطعی طور پر ذمہ دار ثابت نہیں کیا جا سکا۔ 1988 کی پاکستانی تحقیقاتی رپورٹ نے تکنیکی خرابی کی قابلِ قبول وجہ تلاش نہ ہونے کے بعد اسے ’’criminal act or sabotage‘‘ کا غالب امکان قرار دیا، لیکن یہ نہیں بتایا کہ ذمہ دار کون تھا۔ بعد میں امریکی FBI/Justice Department کی تحقیقات بھی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں اور حادثے یا تخریب کاری دونوں امکانات کو مکمل طور پر خارج نہیں کیا گیا۔

اس سانحے کے ممکنہ محرکات کیا تھے؟

1۔ افغانستان کی جنگ اور عالمی طاقتوں کا تصادم
1988 میں افغانستان سوویت افواج کے انخلا کے مرحلے میں تھا۔ پاکستان جنرل ضیاء کی قیادت میں افغان مجاہدین کی حمایت میں مرکزی کردار ادا کر رہا تھا۔ اس لیے پاکستان نہ صرف خطے کی سیاست بلکہ امریکہ، سوویت یونین، افغانستان اور بھارت سمیت متعدد طاقتوں کے مفادات کے بیچ کھڑا تھا۔ اسی وجہ سے ضیاء الحق کی موت کے فوراً بعد مختلف بیرونی ہاتھوں کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں، لیکن ان میں سے کسی ایک کو ثابت کرنے والا حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا۔

2۔ اندرونی طاقت کی سیاست
ضیاء الحق صرف صدر نہیں بلکہ آرمی چیف بھی تھے اور گیارہ سال سے ملک کے طاقت کے نظام کا مرکزی کردار تھے۔ ان کے گرد فوج، سیاست، افغانستان پالیسی اور اقتدار کے مستقبل کے حوالے سے مختلف مفادات موجود تھے۔ بعد کی تحقیقات اور صحافتی تحقیقات میں فوج کے اندر طاقت کے اختلافات اور جانشینی کے سوالات کا بھی ذکر ملتا ہے، تاہم انہیں حادثے کی وجہ قرار دینا ثابت شدہ حقیقت نہیں۔

3۔ طیارے کے اندر ممکنہ تخریب کاری
پاکستانی تحقیقاتی بورڈ نے طیارے کے ملبے میں بعض غیر معمولی کیمیائی عناصر اور PETN کے آثار کی نشاندہی کی اور یہ امکان پیش کیا کہ پائلٹوں کو کسی کیمیائی مادے کے ذریعے بے اثر کیا گیا ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ شواہد بھی اس بات کو ثابت نہیں کرتے کہ حملہ کس نے کیا۔

4۔ تفتیش کی حدود اور ایک بڑا خلا
تحقیقاتی بورڈ نے خود مزید تفتیش کی ضرورت ظاہر کی تھی، مگر اصل مجرموں تک پہنچنے کا معاملہ حل نہ ہو سکا۔ مزید یہ کہ طیارے میں cockpit voice recorder موجود نہ ہونے کی وجہ سے آخری لمحات کی براہِ راست ریکارڈنگ بھی دستیاب نہیں تھی۔

پاکستان نے کیا سبق سیکھا؟

سب سے تلخ بات یہ ہے کہ اتنے بڑے سانحے کے باوجود پاکستان اس واقعے سے وہ ادارہ جاتی سبق حاصل نہیں کر سکا جو حاصل کرنا چاہیے تھا۔

سب سے بڑا سبق یہ تھا کہ ریاستی قیادت کو ایک ہی طیارے، ایک ہی مقام یا ایک ہی حفاظتی نظام میں غیر معمولی حد تک مرکوز کرنا کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

دوسرا سبق یہ تھا کہ ریاستی شخصیات کی سکیورٹی صرف بندوقوں اور محافظوں کا نام نہیں؛ intelligence، counter-sabotage، aviation safety اور independent investigation بھی اتنی ہی اہم ہیں۔

اور تیسرا، شاید سب سے اہم سبق:

جب کسی قومی سانحے کی مکمل حقیقت سامنے نہ آئے تو خلا افواہوں، سازشی نظریات اور سیاسی الزامات سے بھر جاتا ہے۔

پاکستان کو ایسے واقعات کے لیے ایسی آزاد اور جدید تحقیقاتی صلاحیت درکار ہے جو سیاسی یا ادارہ جاتی دباؤ سے بالاتر ہو اور جس کے نتائج عوام کے سامنے قابلِ اعتماد انداز میں رکھے جائیں۔

کیونکہ 17 اگست 1988 کا اصل سوال صرف یہ نہیں کہ ضیاء الحق کے طیارے کو کیا ہوا؟

اصل سوال یہ بھی ہے:

کیا پاکستان نے اس سانحے کے بعد اپنے نظام کو اتنا محفوظ، شفاف اور جواب دہ بنایا کہ تاریخ دوبارہ خود کو دہرانے سے بچ سکے؟

اور یہی اس المناک واقعے کا سب سے بڑا سبق ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا