اسلام آباد میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے غیر ملکی شہریوں کے ویزا قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 258 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کے مطابق کارروائی گلبرگ گرینز میں واقع اسپارکو پلازہ میں کی گئی، جہاں سے حراست میں لیے گئے 258 غیر ملکی شہریوں کے خلاف فارنرز ایکٹ 1946 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق گرفتار افراد کا تعلق ویتنام، انڈونیشیا، چین اور ملائیشیا سے ہے۔ ایف آئی اے کا مؤقف ہے کہ یہ افراد مبینہ طور پر ایسی ملازمتوں یا کاروباری سرگرمیوں میں مصروف تھے جو ان کے ویزا اسٹیٹس اور پاکستان میں قیام کی قانونی شرائط سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔
ایف آئی اے نے تمام افراد کے خلاف فارنرز ایکٹ 1946 کی دفعہ 14 کے تحت کارروائی کی ہے۔ ادارے کی جانب سے کیس کی مزید تفتیش جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متعلقہ غیر ملکی شہری پاکستان میں کس مقصد کے لیے موجود تھے، ان کی سرگرمیوں کی نوعیت کیا تھی اور آیا ان کے پاس متعلقہ کام یا کاروبار کے لیے قانونی اجازت موجود تھی یا نہیں۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں غیر ملکی شہریوں کے ویزا، قیام اور ورک پرمٹ سے متعلق قوانین پر عمل درآمد سخت کیا جا رہا ہے۔ ایف آئی اے کو امیگریشن، غیر قانونی انسانی اسمگلنگ اور غیر ملکیوں سے متعلق متعدد قوانین کے نفاذ میں اہم کردار حاصل ہے۔
تاہم قانونی طور پر مقدمہ درج ہونا جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔ حتمی ذمہ داری اور قانونی حیثیت کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔
ایف آئی اے کی یہ کارروائی ایک بار پھر اس سوال کو نمایاں کرتی ہے کہ پاکستان میں غیر ملکی شہریوں کی ملازمت، کاروباری سرگرمیوں اور ویزا شرائط کی نگرانی کا نظام کس حد تک مؤثر ہے۔ اگر کسی غیر ملکی کو مخصوص مقصد کے لیے ویزا جاری کیا گیا ہو تو اس کی سرگرمیوں کو اسی قانونی دائرے میں رکھنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری بھی ہے اور ملکی قوانین کی پابندی غیر ملکی شہریوں کی بھی۔
اس کیس میں مزید تفتیش کے بعد یہ واضح ہوگا کہ 258 افراد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نوعیت کیا تھی اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کس سمت آگے بڑھتی ہے۔
