ہولی فیملی ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں مریض خوار، سینئر ڈاکٹروں کے بروقت راؤنڈ کا مطالبہ

0
1

راولپنڈی: ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کے چلڈرن وارڈ میں زیرِ علاج بچوں کے والدین نے علاج، تشخیص اور ٹیسٹ رپورٹس کے حصول میں مبینہ تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ صبح کے وقت ہاؤس جاب ڈاکٹرز مریضوں کا ابتدائی معائنہ کرکے چلے جاتے ہیں، لیکن اس کے بعد سینئر اور اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کے بروقت راؤنڈ نہ ہونے کے باعث کئی خاندان گھنٹوں انتظار کرتے رہتے ہیں۔

والدین کے مطابق بعض بچوں کی حالت اور ٹیسٹ رپورٹس ایسی ہوتی ہیں جن پر سینئر ڈاکٹر کی رائے کے بغیر علاج کا اگلا مرحلہ طے کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ایسے میں ڈاکٹر کے معائنے میں تاخیر کا براہِ راست اثر بچے کی تشخیص اور علاج پر پڑنے کا خدشہ رہتا ہے۔

لواحقین کی سب سے اہم شکایت لیبارٹری رپورٹس کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض ضروری ٹیسٹوں کی رپورٹس کئی گھنٹوں کی تاخیر سے ملتی ہیں، بعض اوقات مریضوں کو رات گئے تک رپورٹس کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ والدین کا سوال ہے کہ اگر کسی بچے کی ضروری رپورٹ بروقت دستیاب نہ ہو اور سینئر ڈاکٹر بھی رپورٹ آنے کے بعد ہی مریض کا معائنہ کرے تو ایسے بچے کی بروقت تشخیص اور علاج کیسے یقینی بنایا جا سکتا ہے؟

یہ صورتحال صرف ایک خاندان کی پریشانی نہیں بلکہ سرکاری ہسپتالوں میں علاج کے لیے آنے والے ایسے متعدد مریضوں کا مسئلہ بن سکتی ہے جو محدود مالی وسائل کے باعث نجی ہسپتالوں کے مہنگے علاج کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ان خاندانوں کے لیے سرکاری ہسپتال ہی آخری امید ہوتے ہیں، جہاں وہ اپنے بچوں کے لیے بروقت، معیاری اور ذمہ دارانہ طبی سہولیات کی توقع رکھتے ہیں۔

اس صورتحال کے پیشِ نظر محکمہ صحت اور ہسپتال انتظامیہ سے یہ سوال اہمیت اختیار کر جاتے ہیں کہ کیا چلڈرن وارڈ میں سینئر اور اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کے روزانہ راؤنڈ کا باقاعدہ نظام موجود ہے؟ اگر ایسا نظام موجود ہے تو اس پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کیوں نہیں ہو رہا؟ اسی طرح ضروری لیبارٹری رپورٹس میں تاخیر کی وجوہات کیا ہیں اور کیا ایمرجنسی یا تشویشناک حالت میں موجود بچوں کے ٹیسٹ اور رپورٹس کے لیے کوئی فوری نظام فعال ہے؟

ہسپتال انتظامیہ کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ روزانہ کتنے مریض سینئر ڈاکٹر کے معائنے کے منتظر رہتے ہیں اور انہیں کتنی دیر تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ایسے اعداد و شمار نہ صرف مسئلے کی اصل نوعیت سامنے لا سکتے ہیں بلکہ انتظامی خامیوں کو دور کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

سیکرٹری ہیلتھ پنجاب، محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام، ہسپتال انتظامیہ اور متعلقہ ضلعی حکام سے مطالبہ ہے کہ ہولی فیملی ہسپتال کے چلڈرن وارڈ کی صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے، سینئر ڈاکٹروں کے بروقت راؤنڈ یقینی بنائے جائیں، لیبارٹری رپورٹس کی فراہمی کے نظام کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے اور خاص طور پر بچوں کے ضروری ٹیسٹوں کی رپورٹس فوری فراہم کرنے کے لیے مؤثر طریقہ کار وضع کیا جائے۔

بیمار بچے کے ساتھ ہسپتال میں موجود والدین کے لیے انتظار کی ہر گھڑی انتہائی کربناک ہوتی ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامی معاملات کی وجہ سے کسی بچے کی تشخیص یا علاج میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو اور سرکاری ہسپتال آنے والے ہر مریض کو بروقت طبی توجہ اور مناسب رہنمائی فراہم کی جائے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا