اسلام آباد: پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں زیرِ علاج تھیلاسیمیا کے مریضوں کے لیے خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا، جہاں مریضوں نے قومی جذبے کے ساتھ کیک کاٹا اور یومِ آزادی کی خوشیاں منائیں۔
تقریب کا مقصد بیماری سے نبرد آزما بچوں اور دیگر مریضوں کو یہ احساس دلانا تھا کہ وہ معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور مشکل حالات کے باوجود زندگی کی خوشیوں اور قومی تقریبات میں بھرپور شرکت کا حق رکھتے ہیں۔ تقریب کے دوران مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کے چہروں پر خوشی نمایاں رہی، جبکہ یومِ آزادی کے حوالے سے قومی جذبے کا اظہار بھی کیا گیا۔
پمز میں تھیلاسیمیا کے مریضوں کے لیے باقاعدہ الگ یونٹ موجود ہے، جو بالغ اور بچوں دونوں مریضوں کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ ہسپتال کی جانب سے دستیاب معلومات کے مطابق تھیلاسیمیا کے مریضوں کو خون کی فراہمی چوبیس گھنٹے جاری رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے، جبکہ خون کی منتقلی کے دوران پیچیدگیوں کے خطرے کو کم کرنے کے لیے لیوکوریڈیوسڈ فلٹرز بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔ پمز کے مطابق 2024 میں روزانہ اوسطاً 35 سے 40 خون کے بیگز تھیلاسیمیا کے مریضوں کے لیے فراہم کیے جا رہے تھے۔
تھیلاسیمیا ایک موروثی خون کی بیماری ہے جس میں مریضوں کو باقاعدگی سے خون کی منتقلی کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ اسی لیے خون کے عطیات ان مریضوں کی زندگی بچانے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
پمز میں اس نوعیت کی تقریبات ماضی میں بھی منعقد ہوتی رہی ہیں۔ 2018 میں بھی تھیلاسیمیا کے بچوں کے لیے یومِ آزادی کے موقع پر خصوصی سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا تھا، جس میں بچوں نے پرچم کشائی، قومی تھیم پر پینٹنگ اور کوئز میں حصہ لیا تھا۔
یومِ آزادی کے موقع پر پمز میں تھیلاسیمیا کے مریضوں کے ساتھ کیک کاٹنے کی تقریب اس پیغام کو اجاگر کرتی ہے کہ بیماری یا جسمانی مشکلات کسی بھی بچے کی خوشیوں، حوصلے اور قومی زندگی میں شرکت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہییں۔
