ہارٹ اٹیک کی صورت میں ابتدائی چند منٹ انتہائی اہم، ماہرین بروقت طبی امداد پر زور دیتے ہیں

0
1

اسلام آباد: طبی ماہرین کے مطابق ہارٹ اٹیک کی صورت میں ابتدائی چند منٹ مریض کی جان بچانے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر کسی شخص کو اچانک سینے میں شدید درد، ٹھنڈا پسینہ، سانس لینے میں دشواری، سینے کا بوجھ بازو، کندھے، گردن یا جبڑے تک پھیلتا محسوس ہو تو اسے فوری طور پر طبی ایمرجنسی سمجھنا چاہیے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں سب سے پہلا قدم ایمرجنسی سروس کو فوری کال کرنا ہے تاکہ مریض کو جلد از جلد اسپتال منتقل کیا جا سکے، کیونکہ ہارٹ اٹیک کا بنیادی علاج اسپتال میں ہی ممکن ہوتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق اگر مریض کو اسپرین (Disprin/Aspirin) سے الرجی نہ ہو، معدے سے خون آنے کی شکایت نہ ہو اور ڈاکٹر نے پہلے سے منع نہ کیا ہو، تو ایک مناسب خوراک والی اسپرین چبانے سے بعض مریضوں میں خون جمنے کے عمل کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم دوا صرف احتیاط اور مناسب طبی ہدایات کے مطابق ہی دی جانی چاہیے۔

اسی طرح اینجی سیڈ (Nitroglycerin) یا اس جیسی دوا صرف اس مریض کو دی جانی چاہیے جسے یہ دوا پہلے کسی ڈاکٹر نے تجویز کی ہو۔ کم بلڈ پریشر یا بعض دیگر طبی حالات میں یہ دوا نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتی ہے، اس لیے ہر مریض کو ازخود دینا مناسب نہیں۔

ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ مریض کو آرام دہ حالت میں بٹھایا جائے، کسے ہوئے کپڑے ڈھیلے کیے جائیں، اسے غیر ضروری چلنے پھرنے سے روکا جائے اور ہر ممکن کوشش کی جائے کہ طبی امداد جلد از جلد پہنچ سکے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں نوجوانوں میں بھی دل کے امراض میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کی بڑی وجوہات تمباکو نوشی، غیر متوازن غذا، ذہنی دباؤ، ورزش کی کمی، موٹاپا، ذیابیطس اور بلند فشار خون ہیں۔ اس لیے باقاعدہ طبی معائنہ، صحت مند طرزِ زندگی اور خطرے کی علامات سے آگاہی بے حد ضروری ہے۔

اہم نوٹ: ہارٹ اٹیک کی صورت میں گھریلو ٹوٹکوں یا صرف دواؤں پر انحصار نہ کریں۔ فوری طور پر ایمرجنسی طبی امداد حاصل کرنا ہی سب سے مؤثر اور محفوظ طریقہ ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا