پشاور: بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (BISE) پشاور کے سالانہ میٹرک امتحانات 2026 کے نتائج نے تعلیمی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ نتائج کے مطابق نویں اور دسویں جماعت میں سب سے زیادہ طلبہ اسلامیات کے مضمون میں ناکام ہوئے، جبکہ مجموعی طور پر 10 ہزار سے زائد طلبہ اس مضمون میں کامیابی حاصل نہ کر سکے۔
اعلان کردہ نتائج کے مطابق نویں جماعت کے امتحانات میں 97 ہزار 950 طلبہ و طالبات نے شرکت کی، جن میں سے صرف 57 ہزار 847 طلبہ دسویں جماعت میں ترقی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
اسلامیات جیسے بنیادی اور لازمی مضمون میں اتنی بڑی تعداد میں طلبہ کی ناکامی نے والدین، اساتذہ اور تعلیمی ماہرین کو فکر مند کر دیا ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف ایک مضمون میں کم نمبروں کا نہیں بلکہ مجموعی تعلیمی معیار، تدریسی طریقہ کار، امتحانی نظام اور طلبہ کی تعلیمی تیاری کا عکاس ہے۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق اسلامیات ایسا مضمون ہے جو طلبہ کی اخلاقی، فکری اور دینی تربیت میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر اسی مضمون میں ہزاروں طلبہ کامیاب نہ ہو سکیں تو اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق نصاب، تدریسی معیار، اساتذہ کی تربیت اور امتحانی پرچے کے معیار کا جامع جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ آئندہ ایسے نتائج سے بچا جا سکے۔
والدین نے بھی نتائج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ تعلیمی ادارے اس بات کا جائزہ لیں کہ آیا مسئلہ نصاب، تدریس، امتحانی طریقہ کار یا طلبہ کی تیاری میں ہے، تاکہ بروقت اصلاحی اقدامات کیے جا سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طلبہ کی ناکامی کو صرف ان کی کمزوری قرار دینے کے بجائے پورے تعلیمی نظام کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ مضبوط تعلیمی بنیاد ہی کسی قوم کے روشن مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے۔
