اسلام آباد: سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ میں خلع کے وقت حق مہر کی واپسی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ایک دلچسپ لمحہ اس وقت آیا جب سینئر وکیل ڈاکٹر بابر اعوان اور ججز کے درمیان ہونے والے مکالمے پر عدالت قہقہوں سے گونج اٹھی۔
جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں پانچ رکنی شریعت اپیلیٹ بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے سابق سربراہ شعبہ تحقیق اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر انعام اللہ اور سینئر وکیل ڈاکٹر بابر اعوان کو عدالتی معاون مقرر کر دیا۔
سماعت کے دوران ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ بینچ میں ڈاکٹر خالد مسعود کو دیکھ کر خوشی ہوئی۔ اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے مسکراتے ہوئے استفسار کیا، “کیا باقی ججز کو دیکھ کر اچھا نہیں لگا؟” بابر اعوان نے جواب دیا کہ سب کو دیکھ کر خوشی ہوئی، لیکن ڈاکٹر خالد مسعود کو دیکھ کر خاص خوشی ہوئی۔ اس پر جسٹس ملک شہزاد نے مسکراتے ہوئے “گڈ ٹو سی یو” کہا، جس سے عدالت میں خوشگوار ماحول پیدا ہوگیا اور قہقہے گونج اٹھے۔
بعد ازاں عدالت نے خلع اور حق مہر کی واپسی سے متعلق اہم قانونی نکات پر سماعت جاری رکھی۔ جسٹس ملک شہزاد نے استفسار کیا کہ کیا خلع لینے کی صورت میں خاتون پر حق مہر چھوڑنے یا واپس کرنے کی کوئی لازمی شرط عائد کی جا سکتی ہے؟ انہوں نے قرآن پاک کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا کہ عورت بعض حالات میں کچھ دے کر علیحدگی اختیار کر سکتی ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ پنجاب کے قانون میں خلع لینے والی خاتون کے لیے 50 فیصد حق مہر واپس کرنے کی شرط موجود تھی، تاہم وفاقی شرعی عدالت اس قانون کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔
ڈاکٹر بابر اعوان نے مؤقف اختیار کیا کہ قرآن میں استعمال ہونے والے لفظ “کچھ” کی عدالتی تشریح ضروری ہے تاکہ اس کی واضح قانونی تشریح سامنے آ سکے۔ جسٹس ڈاکٹر خالد مسعود نے بھی ریمارکس دیے کہ قرآن مجید میں اس لفظ کی تفسیر کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
دوران سماعت جسٹس ملک شہزاد نے کہا کہ استحصال صرف ایک فریق کا نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات دونوں جانب سے بھی ہوتا ہے۔ ان کے بقول ایسے گروہ بھی موجود ہیں جو کسی صاحبِ حیثیت شخص سے شادی کے چند ماہ بعد خلع لے لیتے ہیں۔
عدالت نے پنجاب حکومت سے بھی اس معاملے پر علماء کی رائے سے متعلق ہدایات طلب کیں، جبکہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ حکومت اس حوالے سے رہنمائی حاصل کر رہی ہے۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت گرمیوں کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
