بھارتی سماجی کارکن، انجینئر اور ماہرِ تعلیم سونم وانگچک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال صرف اسی صورت ختم کریں گے جب حکومت احتجاج میں شریک طلبہ کے خلاف کسی بھی قسم کی قانونی یا انتقامی کارروائی نہ کرنے کی واضح یقین دہانی کرائے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سونم وانگچک نے وفاقی وزرا جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کے نام لکھے گئے خط میں حکومت کی جانب سے ان کے مطالبات پر غور کی یقین دہانی کا خیرمقدم کیا اور اس پر شکریہ بھی ادا کیا۔
اپنے خط میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیٹ امتحان کے پرچہ لیک کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دیا جائے، جبکہ پارلیمنٹ میں تعلیمی نظام، امتحانی شفافیت اور جوابدہی سے متعلق سنجیدہ اور بامعنی بحث بھی کرائی جائے۔
سونم وانگچک نے کہا کہ وہ بھی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر کے دوبارہ طلبہ اور تعلیم کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں، تاہم وہ ان نوجوانوں کی قیمت پر ایسا نہیں کر سکتے جن کے حقوق کے تحفظ کے لیے یہ تحریک شروع کی گئی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت یہ یقین دہانی کرائے کہ احتجاج میں شریک کسی بھی طالب علم کے خلاف قانونی یا انتقامی کارروائی نہیں ہوگی تو وہ فوری طور پر اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں گے، بصورت دیگر ان کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال جاری رہے گی۔
