انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (ICC) کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کو عہدے سے ہٹانے کے معاملے نے عالمی سطح پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 25 جولائی کو آئی سی سی کے 125 رکن ممالک میں سے 82 نے مبینہ جنسی بدسلوکی کے الزامات کے معاملے میں کریم خان کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ کریم خان نے الزامات کی تردید کی ہے۔
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب کریم خان نے نومبر 2024 میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور دیگر کے خلاف غزہ میں مبینہ جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کی درخواست کی۔ اس کے بعد امریکا کی جانب سے آئی سی سی کے خلاف سخت مؤقف اور سفارتی دباؤ کی اطلاعات سامنے آئیں۔
رپورٹ میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا کریم خان کے خلاف سامنے آنے والے الزامات واقعی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا نتیجہ ہیں یا ان کے اسرائیل کے خلاف اقدامات کے پس منظر میں سیاسی عوامل بھی کارفرما تھے؟ رپورٹ کے مطابق الزام عائد کرنے والی خاتون نے مبینہ واقعے کا درست وقت اور ہوٹل واضح طور پر بیان نہیں کیا، جبکہ واقعہ 2023 اور 2024 کے دوران کولمبیا کے ایک نامعلوم ہوٹل میں پیش آنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ کریم خان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ ان نکات سمیت کئی معاملات مزید شفاف تحقیقات کے متقاضی ہیں۔
اس معاملے میں یہ تاثر بھی زیر بحث ہے کہ اسرائیلی قیادت کے خلاف کارروائی کے بعد کریم خان پر غیر معمولی دباؤ بڑھا۔ تاہم یہ دعویٰ کہ ان کے خلاف الزامات براہِ راست کسی مخصوص مذہبی یا نسلی گروہ نے گھڑے، ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان کے خلاف کارروائی مکمل طور پر شفاف، آزاد اور قانونی معیار کے مطابق ہوئی؟
ایک پاکستانی نژاد شخصیت کا عالمی سطح کے ایک انتہائی اہم قانونی ادارے کی سربراہی تک پہنچنا بلاشبہ پاکستان کے لیے باعثِ اہمیت تھا۔ اسی لیے کریم خان کے معاملے میں شفافیت، آزادانہ تحقیقات اور تمام فریقوں کو منصفانہ سماعت کا حق ملنا نہ صرف ان کے لیے بلکہ عالمی انصاف کے نظام کی ساکھ کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔
کیا کریم خان کے خلاف کارروائی واقعی الزامات کی بنیاد پر ہوئی یا عالمی طاقتوں کے سیاسی مفادات نے بھی اس فیصلے پر اثر ڈالا؟ یہ سوال اب بھی جواب طلب ہے۔
