کراچی: چینی فضائیہ کے J-16 ملٹی رول فائٹر طیاروں کی کراچی ایئرپورٹ پر آمد نے توجہ حاصل کر لی ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق چینی طیارے مصر میں ہونے والی آئندہ فضائی مشق میں شرکت کے لیے سفر کے دوران کراچی میں عارضی پڑاؤ کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کم از کم چھ J-16 طیارے کراچی میں دیکھے گئے، جبکہ چینی فضائی پیکج میں KJ-500 ایئر بورن ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول طیارہ اور Y-20 اسٹریٹجک ٹرانسپورٹ طیارہ بھی شامل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم تمام طیاروں کی تعداد اور انفرادی شناخت کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
اطلاعات کے مطابق کراچی میں قیام کا مقصد بنیادی طور پر ٹرانزٹ اور گراؤنڈ سپورٹ ہے۔ یعنی طیاروں کے اگلے سفر سے قبل انہیں زمینی معاونت، تکنیکی سہولت اور دیگر ضروری انتظامات فراہم کیے جانے کی توقع ہے۔ اس مرحلے کو کسی نئی جنگی کارروائی یا پاکستان میں مستقل تعیناتی سے تعبیر کرنا قبل از وقت ہوگا۔
اس موقع پر پاکستان ایئر فورس کی خصوصی فورسز کی تعیناتی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر ملکی فوجی طیاروں کی آمد کے پیش نظر سکیورٹی اور زمینی انتظامات کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ تاہم خصوصی فورسز کی تعیناتی کے مخصوص حجم اور ذمہ داریوں کے بارے میں سرکاری سطح پر تفصیلی معلومات سامنے نہیں آئیں۔
J-16 چین کا جدید دو نشستوں والا، جڑواں انجن ملٹی رول فائٹر ہے، جو فضائی جنگ کے ساتھ ساتھ زمین پر اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چینی سرکاری ذرائع کے مطابق J-16 کو مختلف فضائی اور زمینی جنگی تربیتی مشقوں میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
چین اور پاکستان کے درمیان فضائی تعاون پہلے ہی کافی گہرا ہے۔ دونوں ممالک مشترکہ فضائی مشقوں میں J-16، J-10C اور دیگر جدید پلیٹ فارمز استعمال کر چکے ہیں۔ 2024 کی Indus Shield مشق میں بھی چینی J-16 اور J-10C جبکہ پاکستانی J-10C اور JF-17 طیاروں نے حصہ لیا تھا۔
موجودہ پیش رفت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ چینی فضائی پیکج مصر کی جانب بڑھ رہا ہے، جہاں Eagles of Civilization 2026 کے نام سے چین اور مصر کی مشترکہ فضائی مشق جاری ہے۔ اس مشق میں فضائی برتری، جنگی حکمت عملی، فورس کے استعمال اور اہلکاروں کی بازیابی جیسے موضوعات پر تربیت شامل ہے۔
یوں کراچی میں J-16 طیاروں کی موجودگی کو فی الحال ایک اہم مگر عارضی ٹرانزٹ سرگرمی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ البتہ پاکستان میں چینی فضائی اثاثوں کے اس پڑاؤ نے دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے دفاعی اور فضائی تعاون کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ طیاروں کی کراچی میں موجودگی کی مکمل تفصیلات، قیام کا دورانیہ اور خصوصی سکیورٹی انتظامات کے بارے میں سرکاری بیان سامنے آنے کی صورت میں ہی مزید واضح تصویر سامنے آ سکے گی۔
