کراچی: شہرِ قائد میں اسٹریٹ کرائم کی صورتحال ایک بار پھر تشویشناک ہوگئی ہے۔ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے باوجود اگست کے دوران اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں نے رواں سال کے ابتدائی سات ماہ کا ریکارڈ توڑ دیا۔
سیٹیزن پولیس لائزن کمیٹی (CPLC) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اگست 2026 میں کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی مجموعی طور پر 5 ہزار 204 وارداتیں رپورٹ ہوئیں، جو سال کے پہلے سات ماہ کے مقابلے میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران شہر میں اسٹریٹ کرائم کی مجموعی تعداد 39 ہزار 98 تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار کراچی میں جرائم کی سنگین صورتحال اور شہریوں میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کی عکاسی کرتے ہیں۔
اگست کے دوران موٹر سائیکل چوری کی 2 ہزار 678 وارداتیں رپورٹ ہوئیں، جبکہ 124 گاڑیاں بھی چوری کی گئیں۔
صرف چوری ہی نہیں بلکہ شہریوں کو اسلحے کے زور پر لوٹنے کے واقعات بھی جاری رہے۔ رپورٹ کے مطابق اگست میں شہریوں سے 1 ہزار 884 موبائل فون، 502 موٹر سائیکلیں اور 16 گاڑیاں چھین لی گئیں۔
جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیوں میں بھتہ خوری بھی شامل رہی۔ اگست کے دوران شہر میں بھتہ خوری کے 8 واقعات رپورٹ ہوئے۔
سب سے زیادہ تشویشناک پہلو انسانی جانوں کا ضیاع ہے۔ CPLC رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ کراچی میں مختلف جرائم کی وارداتوں کے دوران 44 افراد قتل ہوئے۔
یہ اعداد و شمار ایک بار پھر یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کراچی میں شہریوں کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے سیکیورٹی اقدامات آخر کیوں مؤثر ثابت نہیں ہو رہے؟ شہری روزمرہ زندگی میں موبائل فون، موٹر سائیکل اور گاڑی چھینے جانے کے خوف کے ساتھ ساتھ اپنی جان کے تحفظ کے حوالے سے بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں۔
کراچی جیسے معاشی مرکز میں اگر شہری سڑکوں پر خود کو غیر محفوظ محسوس کریں تو اس کے اثرات صرف امن و امان تک محدود نہیں رہتے بلکہ کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور شہری زندگی پر بھی پڑتے ہیں۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ صرف وارداتوں کے بعد کارروائی کرنے کے بجائے اسٹریٹ کرائم کے منظم نیٹ ورک، چوری شدہ موبائل اور گاڑیوں کی خرید و فروخت کے نظام اور جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف مؤثر اور مستقل کارروائی کی جائے۔
کراچی کے شہریوں کے لیے اصل سوال یہی ہے کہ آخر کب شہر کی سڑکیں خوف کے بجائے تحفظ کی علامت بنیں گی؟
