پشاور: چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صوبوں سے متعلق بیان پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے الفاظ واپس لیں۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ نئے صوبوں کا معاملہ انتہائی حساس ہے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی جلد بازی ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام موجودہ سیاسی نظام اور اسٹیٹس کو سے چھٹکارا چاہتے ہیں اور ملک میں جمہوری انداز میں تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ ان کے مطابق عوام سیاسی کشیدگی اور مسلسل تقسیم سے بھی تنگ آچکے ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے اعلان کیا کہ 27 ستمبر کو پُرامن مارچ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی شوقیہ مارچ نہیں ہوگا اور اس میں سرکاری وسائل استعمال نہیں کیے جائیں گے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سمیت دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی اس مارچ میں شرکت کریں گی۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق عوام نئے انتخابات اور سیاسی عمل کے ذریعے تبدیلی چاہتے ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے بانی پی ٹی آئی کی صحت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی صحت کا مسئلہ موجود ہے اور چیف جسٹس سے درخواست کی گئی ہے کہ متعلقہ سماعت جلد مقرر کی جائے۔
نرسنگ کالج کے واقعے پر بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے طلبہ پر پولیس تشدد کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ متعلقہ ایس ایچ او کو معطل کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پُرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف تشدد نہیں ہونا چاہیے۔
تاہم گفتگو کے دوران سب سے نمایاں سیاسی ردِعمل وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صوبوں سے متعلق بیان پر سامنے آیا۔ بیرسٹر گوہر نے اسے قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مریم نواز اپنے الفاظ واپس لیں۔
نئے صوبوں کا معاملہ پاکستان میں پہلے ہی ایک حساس سیاسی بحث ہے، جس میں انتظامی ضروریات، وسائل کی تقسیم، عوامی نمائندگی اور صوبائی حقوق جیسے کئی اہم پہلو شامل ہیں۔ اسی لیے سیاسی رہنماؤں کے بیانات اس معاملے پر مزید بحث اور اختلاف کو جنم دیتے رہے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ مریم نواز کی جانب سے اس مطالبے پر کوئی ردِعمل سامنے آتا ہے یا نہیں، جبکہ 27 ستمبر کے اعلان کردہ مارچ اور نئے صوبوں کے معاملے پر سیاسی کشیدگی آنے والے دنوں میں مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
