پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی سیاسی کشیدگی، عوام کا سوال: اختلاف حقیقی یا انتخابی حکمتِ عملی؟

0
2

پاکستان کی سیاست میں ایک بار پھر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان بیانات کی جنگ تیز ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف پیپلز پارٹی کی جانب سے وفاقی حکومت کی پالیسیوں اور بعض فیصلوں پر تنقید سامنے آ رہی ہے، جبکہ دوسری جانب دونوں جماعتیں گزشتہ عرصے میں اقتدار کے معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بھی کرتی رہی ہیں۔

یہ صورتحال عوام کے لیے ایک اہم سوال ضرور پیدا کرتی ہے کہ اگر دونوں بڑی سیاسی جماعتیں حکومت کے معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی رہی ہیں تو پھر عوامی مشکلات کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟

پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران مہنگائی، بجلی اور گیس کے نرخوں، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور گھریلو اخراجات میں اضافے نے عام شہری کے بجٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے گھر کا کرایہ، بچوں کی تعلیم، علاج، بجلی کا بل، گیس اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کے اخراجات پورے کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

عوام کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتیں جب حکومت میں ہوتی ہیں تو معاشی فیصلوں کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کے بجائے مشترکہ طور پر نتائج کا سامنا کریں، جبکہ اپوزیشن یا انتخابی ماحول میں ایک دوسرے پر تنقید کرنا کافی نہیں۔

اس لیے عوام کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی بیانات کو صرف نعروں کی بنیاد پر قبول نہ کریں بلکہ یہ بھی دیکھیں کہ کون سی جماعت اقتدار میں کب رہی، اس دوران اس نے کیا معاشی فیصلے کیے، مہنگائی اور روزگار کے حوالے سے اس کی کارکردگی کیا رہی اور آئندہ کے لیے اس کے پاس قابلِ عمل منصوبہ کیا ہے۔

انتخابات قریب ہوں یا نہ ہوں، سیاسی جماعتوں کا احتساب صرف جلسوں اور پریس کانفرنسوں میں نہیں بلکہ ووٹ کے ذریعے ہونا چاہیے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ جذباتی نعروں، ایک دوسرے پر الزامات اور وقتی سیاسی وعدوں کے بجائے کارکردگی، پالیسی، معاشی پروگرام اور اپنے حقیقی مسائل کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ کون سی جماعت آج کس جماعت پر تنقید کر رہی ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے کس کے پاس قابلِ عمل منصوبہ ہے اور اقتدار میں آنے کے بعد اس منصوبے پر عمل کیسے ہوگا؟

عوام کو سیاسی اختلاف ضرور سننا چاہیے، لیکن فیصلہ کرتے وقت ماضی کی کارکردگی اور مستقبل کے عملی پروگرام کو ضرور سامنے رکھنا چاہیے۔

اگر آپ ہماری رائے سے متفق ہیں تو وڈیو کو لائیک اور شیئر کریں اور ہمارے چینل کو بھی فالو کر لیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا