پاکستان ریلوے کے لیے آج کا دن حادثات کے حوالے سے تشویش ناک رہا، جہاں جہلم اور رحیم یار خان میں دو الگ الگ ٹرینیں پٹری سے اتر گئیں۔ خوش قسمتی سے دونوں واقعات میں تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پہلا حادثہ جہلم کے قریب کالا گجراں کے علاقے میں کنتریلہ پھاٹک کے قریب پیش آیا، جہاں راولپنڈی سے لاہور جانے والی مسافر ٹرین راول ایکسپریس پٹری سے اتر گئی۔
ریلوے ذرائع کے مطابق حادثے میں ٹرین کا انجن اور تین بوگیاں متاثر ہوئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ٹرین کے بریک فیل ہونے کے باعث یہ حادثہ پیش آیا، تاہم واقعے کی حتمی وجہ کا تعین مزید تحقیقات کے بعد ہوگا۔
حادثے کے باوجود مسافر محفوظ رہے اور کسی مسافر کے زخمی یا جاں بحق ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ متاثرہ بوگیاں کراسنگ ٹریک پر موجود رہیں جبکہ مین ٹریک کو بحال رکھنے کے لیے ریلوے عملے نے فوری کارروائی شروع کردی۔
دوسرا حادثہ رحیم یار خان کے قریب فیروزہ ریلوے اسٹیشن کے علاقے میں پیش آیا، جہاں کراچی سے یوسف والا جانے والی کول ٹرین حادثے کا شکار ہوگئی۔
رپورٹس کے مطابق کوئلے سے لدی مال گاڑی کے بریک نہ لگنے کے باعث ٹرین سینڈ ہمپ میں جا گھسی، جس کے نتیجے میں انجن الٹ گیا اور متعدد ویگنیں پٹری سے اتر گئیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق انجن سمیت 10 ویگنیں متاثر ہوئیں، جبکہ مقامی رپورٹ میں 11 بوگیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
رحیم یار خان کے حادثے کے بعد اپ ٹریک متاثر ہوا اور ٹرینوں کی آمد و رفت میں خلل پڑا۔ ریلوے حکام نے امدادی ٹرین طلب کرلی ہے تاکہ متاثرہ مال گاڑی کو ہٹانے اور ریلوے ٹریک کو بحال کرنے کا کام مکمل کیا جا سکے۔
ایک ہی روز دو مختلف مقامات پر ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کے واقعات نے پاکستان ریلوے کی سیفٹی اور ٹریک و ٹرینوں کی تکنیکی دیکھ بھال پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
تاہم حکام کی جانب سے حادثات کی حتمی وجوہات کے بارے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔ اس لیے کسی ایک وجہ کو حتمی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
مسافروں کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ دونوں حادثات میں اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ ریلوے کا عملہ متاثرہ ٹرینوں اور ٹریکس کی بحالی کے لیے کارروائی میں مصروف ہے۔
ریلوے حکام سے توقع کی جا رہی ہے کہ دونوں واقعات کی مکمل تحقیقات کرکے حادثات کی اصل وجوہات سامنے لائی جائیں گی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات مزید مؤثر بنائے جائیں گے۔
