ملک میں خوراک کا بحران، گھی، تیل اور دودھ بھی محفوظ نہیں؟

0
1

ہم روزانہ اپنے بچوں اور گھر والوں کے لیے جو دودھ، گھی اور کوکنگ آئل خریدتے ہیں، کیا ہمیں واقعی یقین ہے کہ یہ خوراک صحت کے لیے محفوظ ہے؟

حکومت کی ایک حالیہ رپورٹ نے اس سوال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ پاکستان بھر کی مارکیٹوں سے لیے گئے پیک شدہ گھی، کوکنگ آئل اور دودھ کے 491 نمونوں میں سے 176 قومی معیار پر پورے نہیں اترے، یعنی تقریباً 36 فیصد نمونے غیر معیاری نکلے۔

سب سے زیادہ تشویش ناک صورتحال بناسپتی گھی کی سامنے آئی، جہاں 204 نمونوں میں سے 98 معیار پر پورے نہیں اترے۔ یعنی تقریباً ہر دو نمونوں میں سے ایک ناقص تھا۔ بلینڈڈ کوکنگ آئل کے 146 میں سے 40 جبکہ پیک شدہ دودھ کے 104 نمونوں میں سے 26 غیر معیاری قرار پائے۔

یہ صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کا سوال ہے۔

مہنگائی نے پہلے ہی عام آدمی کو سستی خوراک خریدنے پر مجبور کر رکھا ہے۔ اگر سستی خوراک غیر معیاری نکلے اور مہنگی چیز بھی معیار کی ضمانت نہ دے تو صارف جائے کہاں؟

سب سے بڑا سوال ریاستی نگرانی پر ہے۔

اگر مارکیٹ سے لیے گئے ہر تین میں سے تقریباً ایک پیک شدہ نمونہ معیار پر پورا نہیں اترتا تو فوڈ اتھارٹیز، PSQCA اور دیگر متعلقہ ادارے آخر کیا کر رہے ہیں؟ صرف نمونے لینا اور رپورٹ جاری کرنا کافی نہیں۔ غیر معیاری مصنوعات بنانے والوں کے خلاف فوری کارروائی، جرمانے، لائسنس معطلی اور خطرناک مصنوعات کی مارکیٹ سے واپسی بھی ضروری ہے۔

اور یہ مسئلہ صرف امیر یا غریب کا نہیں۔ غریب آدمی کو خالص دودھ، معیاری گھی اور محفوظ تیل کسی عیاشی کے طور پر نہیں بلکہ بنیادی حق کے طور پر ملنا چاہیے۔

اب حکومت نے کھلے گھی، تیل اور دودھ کی ملک گیر جانچ کی ہدایت بھی دی ہے۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ یہ سروے صرف ایک رپورٹ بن کر رہ جاتا ہے یا غیر معیاری خوراک فروخت کرنے والوں کے خلاف عملی کارملک میں خوراک کا بحران، گھی، تیل اور دودھ بھی محفوظ نہیں؟

ہم روزانہ اپنے بچوں اور گھر والوں کے لیے جو دودھ، گھی اور کوکنگ آئل خریدتے ہیں، کیا ہمیں واقعی یقین ہے کہ یہ خوراک صحت کے لیے محفوظ ہے؟

حکومت کی ایک حالیہ رپورٹ نے اس سوال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ پاکستان بھر کی مارکیٹوں سے لیے گئے پیک شدہ گھی، کوکنگ آئل اور دودھ کے 491 نمونوں میں سے 176 قومی معیار پر پورے نہیں اترے، یعنی تقریباً 36 فیصد نمونے غیر معیاری نکلے۔

سب سے زیادہ تشویش ناک صورتحال بناسپتی گھی کی سامنے آئی، جہاں 204 نمونوں میں سے 98 معیار پر پورے نہیں اترے۔ یعنی تقریباً ہر دو نمونوں میں سے ایک ناقص تھا۔ بلینڈڈ کوکنگ آئل کے 146 میں سے 40 جبکہ پیک شدہ دودھ کے 104 نمونوں میں سے 26 غیر معیاری قرار پائے۔

یہ صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کا سوال ہے۔

مہنگائی نے پہلے ہی عام آدمی کو سستی خوراک خریدنے پر مجبور کر رکھا ہے۔ اگر سستی خوراک غیر معیاری نکلے اور مہنگی چیز بھی معیار کی ضمانت نہ دے تو صارف جائے کہاں؟

سب سے بڑا سوال ریاستی نگرانی پر ہے۔

اگر مارکیٹ سے لیے گئے ہر تین میں سے تقریباً ایک پیک شدہ نمونہ معیار پر پورا نہیں اترتا تو فوڈ اتھارٹیز، PSQCA اور دیگر متعلقہ ادارے آخر کیا کر رہے ہیں؟ صرف نمونے لینا اور رپورٹ جاری کرنا کافی نہیں۔ غیر معیاری مصنوعات بنانے والوں کے خلاف فوری کارروائی، جرمانے، لائسنس معطلی اور خطرناک مصنوعات کی مارکیٹ سے واپسی بھی ضروری ہے۔

اور یہ مسئلہ صرف امیر یا غریب کا نہیں۔ غریب آدمی کو خالص دودھ، معیاری گھی اور محفوظ تیل کسی عیاشی کے طور پر نہیں بلکہ بنیادی حق کے طور پر ملنا چاہیے۔

اب حکومت نے کھلے گھی، تیل اور دودھ کی ملک گیر جانچ کی ہدایت بھی دی ہے۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ یہ سروے صرف ایک رپورٹ بن کر رہ جاتا ہے یا غیر معیاری خوراک فروخت کرنے والوں کے خلاف عملی کارروائی بھی ہوتی ہے۔

آخر میں سوال صرف یہ نہیں کہ 36 فیصد مصنوعات غیر معیاری کیوں نکلیں؟

اصل سوال یہ ہے:

ہم کب تک ایسی خوراک کھاتے رہیں گے جس کے بارے میں ہمیں خود یقین نہیں کہ یہ ہماری صحت کے لیے محفوظ ہے؟روائی بھی ہوتی ہے۔

آخر میں سوال صرف یہ نہیں کہ 36 فیصد مصنوعات غیر معیاری کیوں نکلیں؟

اصل سوال یہ ہے:

ہم کب تک ایسی خوراک کھاتے رہیں گے جس کے بارے میں ہمیں خود یقین نہیں کہ یہ ہماری صحت کے لیے محفوظ ہے؟

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا