پنجاب پولیس کے 15 ڈی ایس پیز کے تقرر و تبادلے، نوٹیفکیشن جاری

0
1

لاہور: پنجاب پولیس میں انتظامی سطح پر اہم اکھاڑ پچھاڑ کرتے ہوئے 15 ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پیز) کے تقرر و تبادلوں کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔ آئی جی پنجاب کی منظوری کے بعد جاری ہونے والے نوٹیفکیشن میں مختلف اضلاع اور پولیس کے اہم شعبوں میں افسران کی نئی تعیناتیاں کی گئی ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق عبدالستار خان کو ڈی ایس پی سی ٹی ڈی راولپنڈی کے عہدے سے تبدیل کرکے ایس ڈی پی او کینٹ راولپنڈی تعینات کیا گیا ہے، جبکہ خالد محمود کو ایس ڈی پی او کینٹ راولپنڈی سے ڈی ایس پی سیکیورٹی راولپنڈی مقرر کردیا گیا ہے۔

محمد الیاس کو ٹریفک آفیسر ہیڈکوارٹرز، ریجنل ٹریفک آفس سرگودھا سے تبدیل کرکے ڈسٹرکٹ ٹریفک آفیسر منڈی بہاؤالدین تعینات کیا گیا ہے۔ محمد عمران خورشید کو ایس ڈی پی او صدر لیہ سے ایس ڈی پی او صدر وہاڑی جبکہ مصطفیٰ کمال کو ڈی ایس پی ہیڈکوارٹرز ڈی جی خان سے ایس ڈی پی او صدر لیہ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

سجاد احمد کو ڈسٹرکٹ آفیسر اسپیشل برانچ اٹک سے تبدیل کرکے ڈسٹرکٹ آفیسر اسپیشل برانچ راولپنڈی مقرر کیا گیا ہے، جبکہ افتخار حسین کو ڈی ایس پی انویسٹی گیشن-II راولپنڈی سے ڈسٹرکٹ آفیسر اسپیشل برانچ اٹک تعینات کیا گیا ہے۔

خطیب الرحمٰن کو ڈی ایس پی ہیڈکوارٹرز سرگودھا سے ڈسٹرکٹ آفیسر اسپیشل برانچ سرگودھا، ثقلین شاہ بخاری کو ڈی ایس پی انویسٹی گیشن جھنگ سے ڈسٹرکٹ آفیسر اسپیشل برانچ ننکانہ صاحب اور محمد ارشد ندیم کو ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائم اوکاڑہ سے ڈسٹرکٹ آفیسر اسپیشل برانچ پاکپتن تعینات کردیا گیا ہے۔

اسی طرح حافظ محمد امجد کو ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائم نارووال سے ڈسٹرکٹ آفیسر اسپیشل برانچ گجرات، غلام مرتضیٰ گیلانی کو ڈی ایس پی انویسٹی گیشن-II ملتان سے ڈسٹرکٹ آفیسر اسپیشل برانچ بہاولپور اور فیاض حمید چوہدری کو ڈی ایس پی سیکیورٹی-II اسپیشل برانچ گورنر ہاؤس لاہور سے ڈسٹرکٹ آفیسر کینٹ اسپیشل برانچ لاہور ریجن تعینات کیا گیا ہے۔

مبین حسین بھٹی کو ڈی ایس پی انٹیلی جنس اسپیشل برانچ پنجاب لاہور سے ڈسٹرکٹ آفیسر سٹی اسپیشل برانچ لاہور ریجن جبکہ ابرار احمد کو اسسٹنٹ ڈائریکٹر/ڈی ایس پی اسپیشل پروٹیکشن یونٹ پنجاب لاہور سے تبدیل کرکے ڈی ایس پی ہیڈکوارٹرز اسپیشل برانچ ساہیوال مقرر کیا گیا ہے۔

پولیس میں افسران کے ایسے تقرر و تبادلے معمول کا انتظامی عمل تصور کیے جاتے ہیں، تاہم مختلف اضلاع اور اہم و حساس شعبوں میں نئی تعیناتیوں کے باعث ان فیصلوں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ نئی ذمہ داریاں سنبھالنے والے افسران کے لیے جرائم کی روک تھام، تفتیش میں بہتری، سیکیورٹی انتظامات اور عوام کو بہتر پولیسنگ فراہم کرنا اہم چیلنجز ہوں گے۔

نئے تعینات افسران اب اپنے اپنے متعلقہ عہدوں کا چارج سنبھالیں گے اور انتظامی و آپریشنل امور کو آگے بڑھائیں گے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا