بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں قومی سلامتی اور سماجی ہم آہنگی پر سیمینار، پرچم کشائی اور کتب کی نمائش

0
1

اسلام آباد: بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ادارہ تحقیقات اسلامی (آئی آر آئی) کے زیر اہتمام یومِ آزادی کی مناسبت سے فیصل مسجد میں ’’قومی سلامتی اور سماجی ہم آہنگی‘‘ کے موضوع پر خصوصی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے ساتھ پرچم کشائی کی گئی جبکہ یومِ آزادی کے حوالے سے کتب کی نمائش بھی سجائی گئی۔

تقریب کے مہمان خصوصی یونیورسٹی کے نائب صدر برائے انتظامی و مالی امور پروفیسر ڈاکٹر عبدالرشید تھے، جبکہ پیغامِ پاکستان اقدام کے ریسورس پرسن اور یونیورسٹی کے سابق طالب علم چوہدری حسین علی نے بطور مہمان مقرر شرکت کی۔

اپنے خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر عبدالرشید نے یومِ آزادی کو محض جشن کا دن نہیں بلکہ قومی خود احتسابی کا موقع قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قوم کو اپنی کامیابیوں، کمزوریوں اور مستقبل کی سمت کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ قائداعظم محمد علی جناح کے اصول ’’اتحاد، ایمان اور تنظیم‘‘ آج بھی پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے قوم سازی اور قیادت کی تیاری میں جامعات کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے انسانی وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق معاشرے میں باہمی اعتماد، مشترکہ اقدار اور اجتماعی ذمہ داری کا احساس مضبوط کیے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے غربت کے خاتمے کو بھی ایک اہم قومی ترجیح قرار دیا جس کے لیے مسلسل اور مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔

مہمان مقرر چوہدری حسین علی نے کہا کہ قومی سلامتی کا تصور صرف دفاعی طاقت تک محدود نہیں بلکہ عوام کی بنیادی ضروریات، معاشی استحکام اور سماجی امن بھی اس کا لازمی حصہ ہیں۔ انہوں نے سماجی تقسیم، بڑھتے ہوئے انتشار اور نوجوانوں میں شناخت کے بحران کو قومی یکجہتی کے لیے اہم چیلنجز قرار دیا۔

انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ یہ سوال ضرور سوچیں کہ ملک سے انہیں کیا حاصل کرنا ہے کے ساتھ ساتھ وہ پاکستان کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید دور کے تنازعات صرف عسکری طاقت سے نہیں جیتے جا سکتے، بلکہ تعلیم، شعور اور فکری مضبوطی ہی ایک مستحکم قوم کی بنیاد بن سکتی ہے۔

چوہدری حسین علی نے غلط معلومات اور جھوٹے پروپیگنڈے کو بھی سماجی بے چینی کا ایک بڑا سبب قرار دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات اور نوجوانوں کے لیے آن لائن شخصیات کے رول ماڈل بننے کے رجحان پر بھی توجہ دلائی اور کہا کہ تعلیم کو صرف روزگار کے حصول کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے تنقیدی سوچ، شعوری پختگی اور ذمہ دار شہری بنانے کا وسیلہ بنانا چاہیے۔

اس سے قبل ادارہ تحقیقات اسلامی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد اکرم نے یومِ آزادی کو آزادی جیسی عظیم نعمت پر شکر ادا کرنے کا موقع قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی اتحاد اور باہمی یکجہتی ہی پاکستان کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی مضبوط بنیاد ہیں۔ انہوں نے بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ پر زور دیتے ہوئے ادارے کے پیغامِ پاکستان اقدام کا بھی ذکر کیا۔

ڈائریکٹر امورِ طلبہ ڈاکٹر غفران احمد نے قائداعظم کی دستور ساز اسمبلی سے تاریخی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بانیٔ پاکستان پُرامن بقائے باہمی اور بین المذاہب ہم آہنگی کو قومی زندگی کا حصہ بنانا چاہتے تھے۔ انہوں نے نوجوانوں کو مثبت اور تعمیری سوچ اپنانے کی تلقین کی۔

ڈائریکٹر امورِ طالبات ڈاکٹر رخسانہ طارق نے تقریب کو حبِ وطن اور یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی علامت قرار دیا۔

تقریب کے دوران مہمان خصوصی نے آئی آر آئی کی ڈاکٹر حمید اللہ لائبریری کا دورہ کیا، جہاں یومِ آزادی کے حوالے سے خصوصی کتب نمائش کا اہتمام کیا گیا تھا۔

تقریب کا ایک خوبصورت پہلو یونیورسٹی کے اسکولز کے بچوں کی ملی نغموں پر مشتمل پیشکش تھی، جسے شرکاء نے بھرپور انداز میں سراہا۔ بچوں نے حکومتِ پاکستان کے لیے جاری کردہ ایک ملی نغمہ بھی ریکارڈ کیا ہے۔

پروگرام میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی طلبہ، اساتذہ، افسران اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر یومِ آزادی کی خوشی میں کیک کاٹا گیا اور ملک کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا