امریکا نے ایران سے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا، جنگ کے 20 روز بعد صورتحال بدلنے کا ایرانی دعویٰ

0
1

تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے تقریباً 20 روز بعد مذاکرات کے لیے رابطہ کیا، حالانکہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ایرانی سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں عباس عراقچی نے کہا کہ جنگ کے آغاز پر امریکی صدر کی جانب سے ایران کے لیے انتہائی سخت مؤقف اختیار کیا گیا اور تہران سے مکمل طور پر سرنڈر کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق جنگ کے چند ہفتوں کے دوران صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی اور تقریباً 20 روز بعد امریکا نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے رابطہ کیا اور بات چیت کی خواہش ظاہر کی۔

عراقچی نے اس پیش رفت کو ایران کے مؤقف اور مزاحمت کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران نے امریکی دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ جنگ کے دوران ایران نے دنیا کے سامنے خود کو ایک ’’سخت اور ناقابلِ شکست طاقت‘‘ کے طور پر ثابت کیا۔ ان کے بقول مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور دیگر حکام نے بھی ایرانی مزاحمت پر حیرت کا اظہار کیا، کیونکہ کسی کو توقع نہیں تھی کہ ایران امریکی دباؤ کے باوجود اتنے طویل عرصے تک مزاحمت جاری رکھ سکے گا۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ امریکا کو اسرائیل، مغربی ممالک اور بعض دیگر ریاستوں کی حمایت حاصل ہونے کے باوجود ایران نے جنگ کے دوران اپنا دفاع جاری رکھا اور یہ ثابت کیا کہ فوجی دباؤ کے ذریعے تہران سے اپنے مطالبات منوانا آسان نہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے، ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز سمیت متعدد اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔

تہران کا مسلسل مؤقف رہا ہے کہ کسی بھی ممکنہ مذاکرات میں ایران کی خودمختاری، قومی سلامتی اور مفادات کا احترام بنیادی شرط ہونا چاہیے، جبکہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کی سرگرمیوں سے متعلق اپنے مطالبات پر زور دیتا رہا ہے۔

تاہم عباس عراقچی کے اس دعوے پر امریکا کی جانب سے فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اس لیے مذاکرات کے لیے مبینہ امریکی رابطے سے متعلق ایرانی وزیر خارجہ کے دعوے کو فی الحال ایران کا مؤقف ہی سمجھا جا رہا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا