4
مکہ مکرمہ: پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے مشترکہ دفاع اور سیکیورٹی تعاون کو نئی سطح پر لے جاتے ہوئے ایک تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت تینوں ممالک اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ اگر تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ معاہدے کو خطے میں دفاعی تعاون کی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس معاہدے پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم شہباز شریف کی موجودگی میں مکہ مکرمہ میں دستخط کیے گئے۔ اس دفاعی شراکت داری کا مقصد اجتماعی دفاع، مشترکہ فوجی مشقوں، انٹیلی جنس شیئرنگ، دفاعی ٹیکنالوجی میں تعاون اور علاقائی سلامتی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اتحاد تین اہم طاقتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لے آیا ہے۔ سعودی عرب مالی اور جغرافیائی اہمیت رکھتا ہے، پاکستان ایک جوہری طاقت اور تجربہ کار فوج کا حامل ملک ہے، جبکہ ترکیہ جدید دفاعی صنعت اور نیٹو کے بڑے عسکری ڈھانچوں میں شامل ہونے کے باعث خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران جنگ، یمن، غزہ اور لبنان کی صورتحال کے باعث علاقائی کشیدگی برقرار ہے۔ تاہم تینوں ممالک نے واضح کیا ہے کہ یہ دفاعی معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بلکہ اجتماعی سلامتی، استحکام اور دفاعی تعاون کے فروغ کے لیے ہے۔