وفاقی حکومت نے یکم جولائی 2026 سے سرکاری ملازمین کے لیے تنخواہوں، الاؤنسز اور دیگر مالی مراعات میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے نئی Basic Pay Scales-2026 نافذ کر دی ہیں۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے 21 جولائی 2026 کو جاری کیے گئے مختلف آفس میمورنڈمز کے مطابق یہ فیصلے وفاقی حکومت کے BPS-1 سے BPS-22 تک کے تمام سول ملازمین پر لاگو ہوں گے۔
نئی پے سکیلز کے تحت Basic Pay Scales-2022 کی جگہ Basic Pay Scales-2026 متعارف کرائی گئی ہیں۔ اس مقصد کے لیے Ad-hoc Relief Allowance-2022 (15 فیصد) اور Ad-hoc Relief Allowance-2025 (10 فیصد) کو بنیادی تنخواہ میں ضم (Merge) کر دیا گیا ہے، جس کے بعد تمام ملازمین کی بنیادی تنخواہیں نئے اسکیلز کے مطابق ازسرِنو مقرر کی جائیں گی۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق 30 جون 2026 تک ملازمین کو ملنے والی بنیادی تنخواہ کو Point-to-Point Fixation کے اصول کے تحت نئے اسکیل میں منتقل کیا جائے گا، جبکہ Personal Pay حاصل کرنے والے ملازمین کو یہ سہولت بدستور قواعد کے مطابق ملتی رہے گی۔ سالانہ انکریمنٹ کا موجودہ نظام بھی برقرار رکھا گیا ہے اور ہر سال یکم دسمبر کو انکریمنٹ دی جائے گی۔
حکومت نے اس کے ساتھ Ad-hoc Relief Allowance-2026 کی بھی منظوری دی ہے، جو نئی Running Basic Pay کا 7 فیصد ہوگا۔ یہ الاؤنس یکم جولائی 2026 سے قابلِ ادائیگی ہوگا، انکم ٹیکس کے دائرے میں آئے گا اور دورانِ رخصت بھی ادا کیا جائے گا، تاہم اسے پنشن، گریجویٹی یا ہاؤس رینٹ کی بنیاد کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔
سرکاری ملازمین کے لیے ایک اور اہم ریلیف کنوینس الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ ہے۔ نئی شرحوں کے مطابق:
- BPS-1 تا 4: 1,785 روپے سے بڑھا کر 2,678 روپے ماہانہ
- BPS-5 تا 10: 1,932 روپے سے بڑھا کر 2,898 روپے ماہانہ
- BPS-11 تا 15: 2,856 روپے سے بڑھا کر 4,284 روپے ماہانہ
- BPS-16 اور اس سے اوپر: 5,000 روپے سے بڑھا کر 7,500 روپے ماہانہ
حکومت نے Disparity Reduction Allowance (DRA)-2026 بھی منظور کر لیا ہے۔ یہ الاؤنس ان ملازمین کو دیا جائے گا جو پہلے سے ڈی آر اے وصول کر رہے ہیں۔ نئی شرح 30 جون 2022 کی بنیادی تنخواہ کا 15 فیصد مقرر کی گئی ہے اور اس کا اطلاق بھی یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
وزارتِ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ مختلف وزارتوں اور اداروں میں پہلے سے دیے جانے والے Special Pays، Special Allowances اور فیصد کی بنیاد پر ملنے والے دیگر الاؤنسز (جہاں کوئی مقررہ حد لاگو نہیں) کو 30 جون 2026 کی سطح پر ہی برقرار رکھا جائے گا اور فی الحال ان میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
حکومت نے ملازمین کو یہ اختیار بھی دیا ہے کہ وہ 30 دن کے اندر تحریری طور پر یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ وہ پرانی BPS-2022 برقرار رکھنا چاہتے ہیں یا نئی BPS-2026 اختیار کریں گے۔ اگر مقررہ مدت میں کوئی فیصلہ نہ کیا گیا تو ملازم کو خودکار طور پر نئی پے سکیل اختیار کرنے والا تصور کیا جائے گا۔
وزارتِ خزانہ نے مزید اعلان کیا ہے کہ نئی تنخواہ سکیلز کے نفاذ کے دوران اگر کسی قسم کی تکنیکی یا انتظامی پیچیدگی سامنے آتی ہے تو اس کے حل کے لیے Finance Division (Regulations Wing) میں Anomaly Committee قائم کی جائے گی، جو ایسے تمام معاملات کا جائزہ لے کر سفارشات مرتب کرے گی۔
ان اقدامات کے ذریعے وفاقی حکومت نے نہ صرف نئی تنخواہ سکیلز نافذ کی ہیں بلکہ الاؤنسز کے نظام میں بھی نمایاں تبدیلیاں متعارف کراتے ہوئے سرکاری ملازمین کے لیے ایک نیا مالی ڈھانچہ تشکیل دیا ہے۔
