اسلام آباد میں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان ایڈووکیٹ امجد حسین نے کل جماعتی حریت کانفرنس (آزاد جموں و کشمیر و پاکستان) کے مرکزی دفتر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کنوینر غلام محمد صفی اور حریت رہنماؤں سے تفصیلی ملاقات کی۔ ملاقات میں مسئلہ جموں و کشمیر، مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال، انسانی حقوق اور خطے میں امن و استحکام سمیت اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران شرکاء نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی، انسانی اور شہری حقوق کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گرفتاریوں، سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی نظربندی، اظہارِ رائے اور میڈیا پر پابندیوں سمیت دیگر اقدامات کی مذمت کی۔
فریقین نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ 5 اگست 2019 کے بعد بھارتی حکومت کی جانب سے کیے گئے آئینی، قانونی اور انتظامی اقدامات، خصوصاً ڈومیسائل اور اراضی سے متعلق پالیسیوں، نے جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت اور آبادیاتی توازن کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ یکطرفہ اقدامات مسئلہ کشمیر کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے اور نہ ہی کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان ایڈووکیٹ امجد حسین نے کہا کہ مسئلہ کشمیر صرف سرحدی تنازع نہیں بلکہ کروڑوں کشمیریوں کے سیاسی مستقبل، بنیادی انسانی حقوق اور حقِ خودارادیت سے جڑا ایک اہم بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل نکالا جائے۔
انہوں نے کشمیری عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کے تحفظ اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے مؤثر اور غیرجانبدار کردار ادا کرے۔
حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی نے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے دورے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کشمیری عوام کے لیے حوصلے کا باعث ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ جموں و کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ایک حل طلب تنازع ہے، جس کا پائیدار حل سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی آزادانہ خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کو یقینی بنائیں۔
ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر مؤثر سفارتی انداز میں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اور کشمیری عوام کو اس تنازع کا بنیادی فریق تسلیم کرتے ہوئے انہیں اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جانا چاہیے۔
اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت، بنیادی انسانی حقوق اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ و پائیدار حل کے لیے سیاسی، سفارتی اور جمہوری کوششیں بھرپور انداز میں جاری رکھی جائیں گی۔
