اسلام آباد: وزارتِ خزانہ نے سرکاری افسران کے لیے اسپیشل پے اسکیلز اور کنٹریکٹ عہدوں سے متعلق پالیسی میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے نئی ہدایات جاری کردی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری ملازمین کی ان عہدوں پر تعیناتی کے طریقہ کار کو مزید واضح کرنا اور ایسے معاملات میں قواعد و ضوابط کا یکساں اطلاق یقینی بنانا ہے۔
وزارتِ خزانہ کے جاری کردہ نئے آفس میمورنڈم کے تحت پالیسی کا دائرہ کار پہلے سے موجود مینجمنٹ پوزیشن اسکیلز (MPS)، پروجیکٹ پے اسکیلز (PPS) اور اسپیشل پروفیشنل پے اسکیلز (SPPS) کے ساتھ ساتھ کنٹریکٹ پوزیشنز تک بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ اس طرح اب ان تمام اہم اور خصوصی نوعیت کی ملازمتوں پر سول سرونٹس کی تعیناتی کو ایک واضح پالیسی فریم ورک کے تحت لایا جائے گا۔
نئی پالیسی کے مطابق اگر کوئی سول سرونٹ کسی سرکاری ادارے، اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائز (SOE) یا خودمختار ادارے میں اوپن اور مسابقتی طریقہ کار کے ذریعے MPS، PPS، SPPS یا کسی متعلقہ کنٹریکٹ عہدے کے لیے منتخب ہوتا ہے تو اس تعیناتی کو ڈپوٹیشن کے طور پر تصور کیا جائے گا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے افسر کی تعیناتی محض ایک نئی ملازمت یا الگ کنٹریکٹ کے طور پر نہیں دیکھی جائے گی بلکہ اس پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی ڈپوٹیشن پالیسی 1990 کے متعلقہ قواعد و شرائط لاگو ہوں گے۔ یوں افسر کی سروس اسٹیٹس، تعیناتی کی مدت اور دیگر متعلقہ معاملات میں موجودہ سرکاری قواعد کو مدنظر رکھا جائے گا۔
یہ پالیسی وفاقی حکومت کے ان سول سرونٹس کے لیے بھی اہم ہے جو وفاقی یا صوبائی حکومتوں کے تحت کام کرتے ہوئے اسپیشل پے اسکیلز یا کنٹریکٹ عہدوں پر تعیناتی حاصل کرتے ہیں۔ نئی ہدایات کے ذریعے حکومت نے کوشش کی ہے کہ مختلف سرکاری اداروں میں اعلیٰ، خصوصی یا پروفیشنل نوعیت کی پوسٹوں پر تعیناتی کے معاملات میں پالیسی کے حوالے سے موجود ابہام کو کم کیا جا سکے۔
وزارتِ خزانہ کی ویب سائٹ کے مطابق یہ نوٹیفکیشن 7 ستمبر 2026 کو جاری ہونے والی اہم سرکاری پیش رفت میں شامل ہے۔
مجموعی طور پر یہ فیصلہ سرکاری افسران کے لیے اسپیشل پے اسکیلز اور کنٹریکٹ عہدوں پر تقرری کے نظام کو باقاعدہ بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس کے بعد ایسے عہدوں پر اوپن میرٹ کے ذریعے منتخب ہونے والے سول سرونٹس کی تعیناتی کو ڈپوٹیشن کے موجودہ سرکاری قواعد کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔
