برآمدات بڑھانے کے لیے حکومت کا اہم اقدام، مخصوص ایکسپورٹرز کو سپر ٹیکس سے چھوٹ

0
3

اسلام آباد: ملکی برآمدات میں اضافے اور برآمدی شعبے کو مزید سہولت دینے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے ایسے ایکسپورٹرز کو سپر ٹیکس میں مکمل چھوٹ دینے کا اعلان کیا ہے جو اپنی آمدن کا بڑا حصہ برآمدی سرگرمیوں سے حاصل کرتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق ٹیکس ایئر 2027 سے مقررہ شرائط پوری کرنے والے ایکسپورٹرز کو سپر ٹیکس کی ادائیگی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ سپر ٹیکس سے چھوٹ ہر ایکسپورٹر کو خودکار طور پر نہیں ملے گی بلکہ اس کے لیے ایک اہم شرط مقرر کی گئی ہے۔ چھوٹ حاصل کرنے کے لیے متعلقہ کاروبار کی 80 فیصد سے زائد آمدن برآمدی سرگرمیوں سے حاصل ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

حکومت کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کو برآمدات میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے اور عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ کاروباری حلقوں کی جانب سے طویل عرصے سے یہ مطالبہ بھی کیا جاتا رہا ہے کہ برآمد کنندگان پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا جائے تاکہ وہ اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے، نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے اور عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکیں۔

نئی پالیسی کے تحت بنیادی توجہ ان کاروباری اداروں پر ہوگی جن کی آمدن کا نمایاں حصہ بیرون ملک مصنوعات اور خدمات کی فروخت سے حاصل ہوتا ہے۔ اس طرح حکومت ایک طرف برآمدی شعبے کو ٹیکس ریلیف دینا چاہتی ہے جبکہ دوسری جانب 80 فیصد سے زائد برآمدی آمدن کی شرط کے ذریعے اس سہولت کو حقیقی برآمد کنندگان تک محدود رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر اس ٹیکس ریلیف کے نتیجے میں ایکسپورٹرز کی لاگت کم ہوتی ہے تو پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی قیمت پر پیش کی جا سکتی ہیں، جس سے برآمدات میں اضافے کے امکانات پیدا ہوں گے۔ تاہم اس پالیسی کے حقیقی نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کاروباری شعبہ اس سہولت سے کس حد تک فائدہ اٹھاتا ہے اور برآمدات بڑھانے کے لیے اسے کس طرح استعمال کرتا ہے۔

حکومت کی جانب سے سپر ٹیکس میں یہ چھوٹ برآمدی شعبے کے لیے ایک مثبت قدم قرار دی جا رہی ہے، تاہم کاروباری حلقوں کی نظریں اب اس بات پر ہوں گی کہ اس فیصلے پر عمل درآمد کس انداز میں ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں پاکستان کی مجموعی برآمدات اور برآمد کنندگان کی مسابقتی صلاحیت میں کتنی بہتری آتی ہے۔

مختصراً، ٹیکس ایئر 2027 سے وہ ایکسپورٹرز جو مقررہ معیار پر پورا اتریں گے اور جن کی 80 فیصد سے زیادہ آمدن برآمدات سے ہوگی، انہیں سپر ٹیکس میں مکمل چھوٹ حاصل ہو سکے گی۔ حکومت کو امید ہے کہ اس اقدام سے برآمدی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، کاروباری لاگت میں کمی آئے گی اور ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کمانے کے مواقع بڑھیں گے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا