اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلا دھار بارش کے بعد نالہ لئی میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہوئی۔ کٹاریاں کے مقام پر پانی 22 فٹ جبکہ گوالمنڈی میں 17.5 فٹ تک پہنچ گیا، جس کے بعد دونوں شہروں کے حساس اور نشیبی علاقوں میں الرٹ جاری کردیا گیا۔
صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کٹاریاں میں پانی کی سطح صرف آدھے گھنٹے کے دوران 21.5 فٹ سے بڑھ کر 22 فٹ ہوگئی، جبکہ گوالمنڈی میں اسی عرصے کے دوران سطح 15 فٹ سے بڑھ کر 17.5 فٹ تک پہنچ گئی۔
شدید بارش کے باعث انتظامیہ نے گوالمنڈی اور کٹاریاں سمیت نالہ لئی کے اطراف رہنے والے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کردیا ہے۔ حکام نے شہریوں کو نالے کے قریب غیر ضروری آمدورفت سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
بارش کے اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد کے گولڑہ میں سب سے زیادہ 113 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ سیدپور میں 71 ملی میٹر، پی ایم ڈی ایچ ایٹ میں 57 ملی میٹر جبکہ بوکرا آئی 12 میں 45 ملی میٹر بارش ہوئی۔
راولپنڈی میں نیو کٹاریاں کے مقام پر 59 ملی میٹر، پیرودھائی میں 51 ملی میٹر، شمس آباد اور گوالمنڈی میں 45، 45 ملی میٹر جبکہ کچہری چکلالہ کے علاقے میں 33 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ دونوں شہروں میں مجموعی اوسط بارش 75.44 ملی میٹر رہی۔
نالہ لئی کا پانی خطرناک حد تک بڑھنے کی صورت میں سیلاب کا خطرہ خاص طور پر ان آبادیوں میں بڑھ جاتا ہے جو نالے کے قریب اور نشیبی علاقوں میں واقع ہیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق نالہ لئی کا کیچمنٹ ایریا تقریباً 235 مربع کلومیٹر ہے اور اس میں اسلام آباد کے بالائی علاقوں سے آنے والے متعدد برساتی نالے شامل ہوکر راولپنڈی میں مرکزی نالہ لئی کا حصہ بنتے ہیں۔
ماضی میں بھی شدید بارش کے دوران نالہ لئی میں پانی خطرناک سطح تک پہنچ چکا ہے۔ 2024 میں کٹاریاں پر پانی 22.7 فٹ اور گوالمنڈی پر 19 فٹ تک پہنچا تھا، دونوں سطحیں انخلا کے مرحلے میں شمار کی گئی تھیں۔
موجودہ صورتحال کے پیش نظر شہریوں کو خاص طور پر نالہ لئی، برساتی نالوں، انڈر پاسز اور نشیبی سڑکوں کے قریب جانے سے گریز کرنا چاہیے، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والی ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے۔
