لنڈا بازار کے بزرگ کپڑا فروش مشتاق شفیعی صدارتی ایوارڈ کے لیے نامزد، سادہ زندگی کی کہانی نے سب کی توجہ حاصل کرلی

0
1

لاہور کے ایک عام سے لنڈا بازار میں استعمال شدہ کپڑے فروخت کرنے والے بزرگ مشتاق شفیعی اس وقت توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، جب ان کے صدارتی ایوارڈ کے لیے نامزد ہونے کی خبر سامنے آئی۔ 21 اگست 2026 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق مشتاق شفیعی کو صدارتی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر انہیں ایوارڈ وصول کرنے کے لیے اسلام آباد بلایا گیا تو وہ لنڈا بازار کے کپڑے پہن کر ہی جائیں گے۔

مشتاق شفیعی کی کہانی اس لیے بھی منفرد ہے کہ وہ کسی بڑے کاروبار، عہدے یا شہرت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی سادہ زندگی اور طویل عرصے سے جاری محنت کے باعث لوگوں کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ وہ لاہور کے لنڈا بازار میں استعمال شدہ کپڑوں کا کاروبار کرتے ہیں اور ان کی گفتگو میں ایک ایسے محنت کش انسان کی جھلک نظر آتی ہے جس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ روزی کمانے میں گزار دیا۔

سوشل میڈیا اور میڈیا رپورٹس میں سامنے آنے والی ان کی ویڈیو میں وہ ایک صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی زندگی کے حالات بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا انداز نہایت سادہ ہے اور وہ اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ اگر انہیں قومی سطح کا اعزاز ملتا ہے تو وہ اپنی شناخت اور اپنے کام سے جڑے رہتے ہوئے اسے قبول کریں گے۔

مشتاق شفیعی کا کہنا ہے کہ وہ ایوارڈ لینے کے لیے مہنگے یا نئے لباس کا اہتمام کرنے کے بجائے وہی کپڑے پہنیں گے جو ان کی روزمرہ زندگی اور ان کے کاروبار کی پہچان ہیں۔ یہی بات ان کی کہانی کو مزید دلچسپ بنا رہی ہے، کیونکہ عام طور پر بڑے اعزازات کی تقریبات میں لوگ خصوصی لباس اور ظاہری شان و شوکت کو اہمیت دیتے ہیں، جبکہ مشتاق شفیعی اپنی سادگی کو ہی اپنی پہچان بنانا چاہتے ہیں۔

لنڈا بازار پاکستان میں استعمال شدہ کپڑوں کی ایک اہم مارکیٹ بن چکا ہے، جہاں بڑی تعداد میں لوگ کم قیمت پر کپڑے خریدتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں مہنگائی اور لوگوں کی قوتِ خرید میں کمی کے باعث سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کی طلب میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں پاکستان نے تقریباً 51 کروڑ ڈالر مالیت کے استعمال شدہ کپڑے درآمد کیے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ تھا۔

ایک سروے کے مطابق 2025 میں تقریباً 48 فیصد پاکستانیوں نے بتایا تھا کہ انہوں نے گزشتہ سال لنڈا بازار سے استعمال شدہ کپڑے خریدے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بازار اب صرف انتہائی کم آمدنی والے طبقے تک محدود نہیں رہا بلکہ مہنگائی کے باعث معاشرے کے مختلف طبقات اس مارکیٹ کا رخ کر رہے ہیں۔

مشتاق شفیعی کی کہانی اسی معاشی حقیقت کا ایک انسانی پہلو بھی سامنے لاتی ہے۔ ایک طرف ملک میں مہنگائی کے باعث لوگ سستے کپڑوں کی تلاش میں لنڈا بازار پہنچ رہے ہیں تو دوسری طرف اسی بازار میں برسوں سے محنت کرنے والا ایک بزرگ اچانک قومی سطح کے اعزاز کے لیے زیرِ بحث آ گیا ہے۔

اگر ان کی نامزدگی حتمی طور پر سرکاری طور پر برقرار رہتی ہے تو ممکنہ طور پر صدارتی ایوارڈ کی تقریب میں ان کا سادہ لباس اور لنڈا بازار سے جڑی شناخت تقریب کے سب سے منفرد مناظر میں شامل ہوگی۔ مشتاق شفیعی کا یہ مؤقف بھی ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ عزت اور کامیابی کا تعلق ہمیشہ مہنگے لباس، بڑے عہدے یا ظاہری شان سے نہیں ہوتا؛ بعض اوقات ایک عام انسان کی مسلسل محنت اور اپنی شناخت سے جڑے رہنے کا جذبہ بھی اسے غیر معمولی بنا دیتا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا