عمران خان کی صحت پر حکومتی رپورٹیں مسترد، آزاد ڈاکٹروں سے معائنہ کرانے کا مطالبہ

0
1

سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے سرکاری رپورٹس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی صحت کی اصل صورتحال جاننے کے لیے انہیں شفاء انٹرنیشنل ہسپتال لایا جائے، جہاں آزاد اور غیر جانب دار ڈاکٹرز ان کا مکمل طبی معائنہ کریں تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔

راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام پر عوام کا اعتماد مجروح ہوچکا ہے اور سرکاری اداروں کی رپورٹس کو بلا تحقیق درست تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے بقول، جب دینی تعلیمات میں جھوٹے شخص کی گواہی کو ناقابلِ اعتبار قرار دیا گیا ہے تو پھر ایسے نظام کی تیار کردہ رپورٹس پر آنکھیں بند کرکے اعتماد کیسے کیا جا سکتا ہے؟

انہوں نے سیاسی نظام پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکمران مینڈیٹ چوری کرکے اقتدار میں آئے ہیں اور عوام کے حق پر ڈاکا ڈالا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ان لوگوں کے دعووں اور بیانات پر اعتماد کرنا مشکل ہے۔

سینیٹر راجہ ناصر عباس نے سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی اور وہاں تیار ہونے والی طبی رپورٹس پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کراچی کے ایک حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک شخص کی ہلاکت کے بعد مبینہ طور پر پوسٹ مارٹم رپورٹ درست انداز میں تیار نہیں کی گئی، جس کے باعث اب دوبارہ پوسٹ مارٹم کی ضرورت پیش آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر سرکاری اداروں اور طبی رپورٹس کے بارے میں اس نوعیت کے سوالات موجود ہوں تو پھر معاملہ صرف سیاسی بیانات تک محدود نہیں رہتا بلکہ ملک کے عدالتی نظام اور سپریم کورٹ کی ذمہ داری مزید اہم ہوجاتی ہے۔

راجہ ناصر عباس کے مطابق عمران خان کی صحت جیسے حساس معاملے میں کسی ایک فریق کی رپورٹ پر انحصار کرنے کے بجائے ایسے ڈاکٹروں سے معائنہ کرایا جانا چاہیے جن پر کسی قسم کا سیاسی یا حکومتی دباؤ نہ ہو، تاکہ طبی صورتحال کے بارے میں ایک قابلِ اعتماد اور غیر جانب دار رائے سامنے آسکے۔

انہوں نے زور دیا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق تمام ابہامات دور کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ آزاد ماہرین ان کا معائنہ کریں اور ان کی رپورٹ عوام اور متعلقہ اداروں کے سامنے رکھی جائے۔

ان کے بقول، جب معاملہ کسی شخص کی زندگی اور صحت سے متعلق ہو تو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر صرف حقائق اور طبی شواہد کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا