سپریم کورٹ نے ایمان مزاری سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ہائیکورٹ میں جاری عدالتی کارروائی کو ریگولیٹ یا اس کی نگرانی نہیں کر سکتی۔
جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں یہ مقدمہ 24 جولائی کو سماعت کے لیے مقرر ہو چکا ہے۔
ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ میں کیس زیر سماعت ہونے کی وجہ سے ہی ہائیکورٹ میں معاملہ مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سماعت پراسیکیوشن کی درخواست پر ملتوی ہوئی تھی اور ان کے مؤکل کو انصاف کی امید سپریم کورٹ سے ہے۔
اس موقع پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ ہائیکورٹ کی کارروائی کو ریگولیٹ نہیں کر سکتی۔ اس پر فیصل صدیقی نے استدلال پیش کیا کہ ماضی میں سپریم کورٹ مختلف مقدمات میں ہائیکورٹس کو احکامات جاری کرتی رہی ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے جواب میں کہا کہ ہدایات جاری کرنے اور عدالتی کارروائی کو ریگولیٹ کرنے میں واضح فرق ہے۔
وکیل فیصل صدیقی نے استدعا کی کہ کم از کم ان کے قابلِ سماعت ہونے کے قانونی نکتے پر دلائل سن لیے جائیں یا پھر کیس کو دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دیا جائے۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اس نوعیت کا حکم دینا ہائیکورٹ کی کارروائی پر نگرانی کے مترادف ہوگا، جو مناسب نہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار دراصل چاہتے ہیں کہ ہائیکورٹ کی کارروائی سپریم کورٹ کی نگرانی میں چلے۔
اس کے جواب میں فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو پھر معاملہ ہائیکورٹ میں ہی چلنے دیا جائے۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر کوئی ہنگامی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو درخواست گزار جلد سماعت کی درخواست دائر کر سکتے ہیں۔
