بحیرۂ احمر میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات اور جہاز رانی کو درپیش خطرات کے پیشِ نظر سعودی عرب نے ایک اہم سفارتی و دفاعی پیش رفت کرتے ہوئے 13 دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کثیرالملکی بحری دفاعی اتحاد قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعودی وزارتِ دفاع کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان سمیت 43 ممالک اور یورپی یونین کے وفد نے شرکت کی۔ اجلاس میں اس مجوزہ اتحاد کے خدوخال، مستقبل کے لائحۂ عمل اور سعودی عرب کے بانی و سربراہ کے کردار پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر یہ بھی زیرِ بحث آیا کہ اتحاد کا مستقل ہیڈکوارٹر سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا۔
سعودی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد باب المندب، بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن جیسے انتہائی اہم سمندری راستوں میں دفاعی تعاون، مشترکہ نگرانی اور بحری سلامتی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کام کرے گا۔
پاکستان، ترکیہ، مصر، سوڈان، سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر، اردن، یمن، بنگلا دیش، نائیجیریا اور صومالیہ سمیت 14 ممالک نے سعودی قیادت میں اس مجوزہ اتحاد کی حمایت کرتے ہوئے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔ اعلامیے میں اتحاد کے قیام کی پیش رفت کا خیرمقدم کیا گیا اور اسے خطے میں بحری استحکام کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق متعدد دیگر ممالک بھی اس اتحاد کی حمایت کر رہے ہیں، تاہم وہ باضابطہ شمولیت سے قبل اپنے داخلی قانونی تقاضے مکمل کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی واضح کیا گیا کہ مستقبل میں مزید ممالک کے لیے بھی اتحاد کے دروازے کھلے رہیں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کا بحران مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔ گزشتہ دنوں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان اور سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کے بعد خطے کی سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی تھی۔ انہی حالات کے باعث سعودی عرب کو آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد اپنی تیل برآمدات کا بڑا حصہ بحیرۂ احمر کی بندرگاہوں کے ذریعے منتقل کرنا پڑا، جس نے اس اہم بحری راستے کے تحفظ کی ضرورت کو مزید اجاگر کر دیا۔
