ساندل ایکسپریس کی بحالی، سرگودھا سے ملتان کے مسافروں کے لیے خوشی کی خبر

0
1
APP26-210826 SARGODHA: August 21 - Chairman Zakat and Ushr Rana Munawar Ghaus leads a prayer as the Sandal Express prepares to depart from Sargodha for Multan following its restoration after six years. APP/MSN/ABB/FHA

سرگودھا، جھنگ اور ملتان کے درمیان سفر کرنے والے شہریوں کے لیے ایک بڑی اور خوش آئند خبر سامنے آئی ہے۔ پاکستان ریلوے نے طویل عرصے سے بند ساندل ایکسپریس کو دوبارہ بحال کر دیا ہے، جس کا باقاعدہ افتتاح 21 اگست کو کیا گیا۔ یہ ٹرین سرگودھا سے ملتان براستہ جھنگ چل رہی ہے اور اس کی بحالی پر مختلف شہروں کے شہریوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔

ساندل ایکسپریس کورونا وبا کے دوران بند ہوئی تھی اور کئی سال تک اس روٹ پر مسافروں کو دوبارہ یہ سہولت میسر نہیں آ سکی۔ اب عوام کے مسلسل مطالبے پر پاکستان ریلوے نے سروس بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے بھی کہا کہ ٹرین کی بحالی عوام کے مطالبے اور ریلوے میں مسافروں کی سہولت بہتر بنانے کے سلسلے کا حصہ ہے۔

نئی ٹرین سروس کے شیڈول کے مطابق ساندل ایکسپریس ملتان سے صبح 6 بج کر 30 منٹ پر روانہ ہوگی اور خانیوال، شورکوٹ، جھنگ اور شاہین آباد سے ہوتی ہوئی تقریباً 1 بج کر 20 منٹ پر سرگودھا پہنچے گی۔ سرگودھا سے واپسی پر ٹرین 3 بج کر 35 منٹ پر روانہ ہو کر رات 10 بج کر 25 منٹ پر ملتان کینٹ پہنچے گی۔

عوام کے لیے اس بحالی کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ سرگودھا، سلانوالی، جھنگ، شورکوٹ، خانیوال اور ملتان کے درمیان سفر کرنے والوں کو دوبارہ نسبتاً کم خرچ اور براہِ راست ریلوے سفری سہولت مل گئی ہے۔ خاص طور پر طلبہ، ملازمین، کاروباری افراد اور کم آمدنی والے مسافروں کے لیے یہ سروس ایک اہم متبادل بن سکتی ہے۔

ٹرین کی بحالی پر اسٹیشنوں پر شہریوں کی بڑی تعداد نے استقبال کیا اور لوگوں نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا۔ کئی مسافروں کا کہنا ہے کہ ساندل ایکسپریس کی واپسی صرف ایک ٹرین کی بحالی نہیں بلکہ عام آدمی کے لیے سستی سفری سہولت کی واپسی ہے۔

البتہ اب عوام کی سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ یہ سروس مستقل بنیادوں پر جاری رہے، وقت کی پابندی کرے اور اس کے معیار کو برقرار رکھا جائے۔ کیونکہ ماضی میں طویل عرصے تک ٹرین سروسز کی بندش نے اس روٹ پر سفر کرنے والے ہزاروں شہریوں کو مشکلات سے دوچار کیا۔

یہ بات بھی واضح ہے کہ ماضی میں ٹرین کی بندش اور ٹرانسپورٹ مافیا یا سیاسی دباؤ سے متعلق مختلف مقامی دعوے سامنے آتے رہے ہیں، لیکن ان دعوؤں کی آزادانہ اور معتبر تصدیق کے بغیر کسی فرد یا گروہ پر الزام عائد کرنا درست نہیں ہوگا۔

اب اصل امتحان پاکستان ریلوے کا ہے کہ عوام کی اس خوشی کو مستقل سہولت میں کیسے تبدیل کیا جاتا ہے۔ اگر ساندل ایکسپریس باقاعدگی سے چلتی رہی، کرایے مناسب رہے اور مسافروں کو بہتر سہولیات ملتی رہیں تو یہ سرگودھا، جھنگ اور ملتان کے درمیان عوامی رابطے اور مقامی کاروباری سرگرمیوں کے لیے بھی مثبت قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

عوام نے ٹرین کا استقبال کر دیا، اب ان کی نظریں اس بات پر ہیں کہ ساندل ایکسپریس صرف افتتاح کے دن نہیں بلکہ آنے والے برسوں تک اسی طرح چلتی رہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا