اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کی اہم بیٹھک کے بعد ملکی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ پر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس ہوا، جس میں پارلیمنٹ کے اندر جوائنٹ اپوزیشن تشکیل دینے اور حکومت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
پریس کانفرنس میں مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کی امن و امان اور معاشی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک میں دہشت گردی، بدامنی اور معاشی مشکلات میں کمی نظر نہیں آ رہی، جبکہ عوام کو صرف طفل تسلیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اب اپنا مشترکہ بیانیہ عوام تک پہنچائے گی اور آئندہ کے سیاسی فیصلے باہمی مشاورت سے کیے جائیں گے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کا وفد محمود خان اچکزئی کی قیادت میں مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ پہنچا، جہاں اپوزیشن کے اجلاس میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔
سیاسی حلقوں میں یہ بات بھی زیرِ بحث ہے کہ کیا اپوزیشن مستقبل میں شہباز شریف حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی طرف بڑھ سکتی ہے؟ صحافی حامد میر کے مطابق پیپلزپارٹی کے اندر بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو حکومت کا ساتھ چھوڑنے کے حق میں ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ موجودہ حالات میں حکومت کو سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ تاہم پیپلزپارٹی کی جانب سے اس حوالے سے حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
اسی دوران راولپنڈی میں فوج کی تعیناتی کی اطلاعات نے بھی سیاسی بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا راولپنڈی میں سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر فوج کی تعیناتی اور اپوزیشن کی حالیہ سیاسی سرگرمیوں کا آپس میں کوئی تعلق ہے؟ فی الحال ایسا کوئی سرکاری ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے دونوں معاملات کو براہِ راست جوڑا جا سکے، اس لیے اس حوالے سے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔
البتہ یہ ضرور ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ پلیٹ فارم، حکومت پر بڑھتا سیاسی دباؤ اور ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال آنے والے دنوں میں پاکستانی سیاست کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن اپنی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کے بعد کیا مشترکہ فیصلہ کرتی ہے اور کیا حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی بات عملی اقدام تک پہنچتی ہے یا یہ صرف سیاسی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ثابت ہوتی ہے۔
