پاکستان نے گزشتہ روز 14 اگست کو 79واں یومِ آزادی قومی جوش و جذبے، سبز ہلالی پرچموں، ملی نغموں، آتش بازی اور مختلف تقریبات کے ساتھ منایا۔ اسلام آباد، لاہور، کراچی، راولپنڈی اور ملک کے دیگر شہروں میں شہری بڑی تعداد میں سڑکوں، پارکوں اور اہم مقامات پر جمع ہوئے۔ اسلام آباد میں آتش بازی اور ملک بھر میں پرچم کشائی کی تقریبات نے جشن کا ماحول مزید پرجوش بنا دیا۔
تاہم جشنِ آزادی کی خوشیوں پر بعض افسوسناک واقعات نے بھی سوالات اٹھا دیے۔ کراچی میں جشن کے دوران ہوائی فائرنگ کے واقعات میں کم از کم 2 افراد جاں بحق جبکہ 94 افراد زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ مختلف علاقوں سے زخمیوں کو سول اسپتال، عباسی شہید اسپتال اور جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق ہوائی فائرنگ کے واقعات کراچی کے متعدد علاقوں، جن میں لیاری، صدر، کورنگی، ملیر، عزیز آباد، نارتھ ناظم آباد، ناظم آباد، گلبرگ، گلشنِ اقبال، اورنگی ٹاؤن، جمشید کوارٹرز اور ڈیفنس شامل ہیں، سے رپورٹ ہوئے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا اور مبینہ طور پر ہوائی فائرنگ میں استعمال ہونے والے اسلحے کی برآمدگی بھی کی۔
یومِ آزادی کے موقع پر بعض مقامات پر نوجوانوں کے درمیان تلخ کلامی، لڑائی جھگڑے اور سڑکوں پر ہلڑ بازی کی شکایات بھی سامنے آئیں، جبکہ موٹر سائیکلوں پر ون ویلنگ اور خطرناک انداز میں ڈرائیونگ نے بھی شہریوں اور ٹریفک پولیس کے لیے مشکلات پیدا کیں۔ تاہم ان واقعات کے حوالے سے ملک گیر حتمی اعداد و شمار ابھی سامنے نہیں آئے، اس لیے انہیں مخصوص تعداد کے ساتھ بیان کرنا قبل از وقت ہوگا۔
حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر سال شہریوں کو جشن کے دوران ہوائی فائرنگ، ون ویلنگ اور خطرناک ڈرائیونگ سے گریز کی ہدایات جاری کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود بعض افراد جشن کو اپنی اور دوسروں کی جان کے لیے خطرہ بنا دیتے ہیں۔
پاکستان کا یومِ آزادی دراصل قربانیوں، اتحاد اور ذمہ داری کا دن ہے۔ جشن ضرور منایا جائے، مگر ایسی خوشی جس میں کسی دوسرے گھر کا چراغ نہ بجھے۔ ہوائی فائرنگ کی ایک گولی جشن منانے والے شخص کے بجائے کسی ایسے شہری کو لگ سکتی ہے جو اپنے گھر میں بیٹھا ہو۔
یومِ آزادی کی خوشیوں کا اصل تقاضا یہی ہے کہ قومی پرچم بلند کرنے کے ساتھ شہری ذمہ داری، قانون کی پاسداری اور دوسروں کی زندگیوں کے احترام کو بھی یقینی بنایا جائے۔
