اسلام آباد کے 27 تھانوں کو 14 سال بعد 30 نئی گاڑیاں فراہم کر دی گئی ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری نے نئی گاڑیوں کی چابیاں اسلام آباد پولیس کے حوالے کیں۔ حکام کے مطابق جدید گاڑیوں سے پولیس کا رسپانس ٹائم بہتر ہوگا، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے پٹرولیم اخراجات اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی آئے گی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ناکارہ گاڑیوں کے ساتھ جدید پولیسنگ کا تصور ممکن نہیں، پولیس کی ضروریات وقت کے مطابق پوری کرکے ہی مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اسلام آباد کے تمام تھانوں کی تعمیر اور اپ گریڈیشن پر بھی کام جاری ہے۔
وزیر مملکت طلال چوہدری نے بتایا کہ اسلام آباد پولیس کے پاس موجود کئی گاڑیاں 14 سال سے پرانی تھیں، جبکہ نفری کی کمی دور کرنے کے لیے 9 ہزار نئے جوان بھرتی کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام اقدامات کا مقصد اسلام آباد پولیس کو ملک کے لیے ایک ماڈل فورس بنانا ہے۔
لیکن یہاں اصل سوال نئی گاڑیوں کی تعداد یا قیمت کا نہیں، بلکہ پولیس کی کارکردگی اور عوام کے ساتھ رویے کا ہے۔
گزشتہ برسوں کے دوران پولیس کے لیے نئی گاڑیاں، جدید آلات، اضافی نفری اور مختلف خصوصی فورسز تشکیل دینے پر اربوں روپے خرچ کیے گئے۔ حکومتیں مسلسل پولیس کو جدید بنانے اور اسے مزید وسائل فراہم کرنے کے دعوے کرتی رہی ہیں، مگر عام شہری کے لیے بنیادی سوال آج بھی وہی ہے: کیا تھانے میں اسے عزت، انصاف اور تحفظ مل رہا ہے؟
نئی گاڑی پولیس کو جائے وقوعہ تک تیزی سے پہنچا سکتی ہے، لیکن اگر شہری کی شکایت سننے، ایف آئی آر درج کرنے یا انصاف فراہم کرنے کا نظام کمزور ہو تو صرف گاڑی بدلنے سے پولیسنگ نہیں بدلتی۔
عوامی سطح پر پولیس کے رویے، اختیارات کے مبینہ غلط استعمال، تشدد، سیاسی اثر و رسوخ اور بااثر افراد کو مبینہ پروٹوکول دینے کے حوالے سے مسلسل شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ بعض سنگین واقعات میں خواتین اور عام شہریوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور تشدد کے الزامات نے بھی پولیس اصلاحات کی ضرورت کو مزید نمایاں کیا ہے۔
یہ تاثر بھی عام ہے کہ پولیس کی گاڑیاں اور نفری عام شہری کی مدد سے زیادہ بااثر شخصیات کے پروٹوکول اور اہم سرکاری سرگرمیوں میں استعمال ہوتی ہے۔ اگر یہ تاثر ختم کرنا ہے تو صرف نئی گاڑیاں کافی نہیں؛ ان کے استعمال کا شفاف نظام بھی ضروری ہے۔
ریاست اگر پولیس کو وسائل دے رہی ہے تو عوام کو اس کے بدلے بہتر پولیسنگ، فوری رسپانس، شفاف تفتیش، تھانے میں عزت اور قانون کی یکساں عمل داری بھی ملنی چاہیے۔
اسلام آباد پولیس کو 30 نئی گاڑیاں دینا بلاشبہ ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے، مگر اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب نئی گاڑی میں بیٹھنے والا اہلکار عام شہری کے لیے خوف کی علامت نہیں بلکہ تحفظ کی ضمانت بنے۔
کیونکہ پولیس کی اصل طاقت گاڑی، وردی یا اسلحہ نہیں، عوام کا اعتماد ہے۔
