اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے عالمی یومِ عدالتی فلاح و بہبود کے موقع پر کہا ہے کہ ججز انتہائی مشکل حالات میں اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں اور مضبوط نظامِ انصاف کے لیے ان کی فلاح و بہبود ناگزیر ہے۔
چیف جسٹس کے اس بیان کے بعد قانونی اور عوامی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ کئی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ججز کو پیشہ ورانہ دباؤ، حساس مقدمات اور بھاری ذمہ داریوں کا سامنا ہوتا ہے، لیکن دوسری جانب انصاف کے منتظر لاکھوں شہری بھی برسوں تک مقدمات، تاریخ پر تاریخ، بڑھتے ہوئے اخراجات اور سست عدالتی کارروائیوں جیسے مسائل برداشت کرتے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ عدلیہ کی فلاح یقیناً اہم ہے، لیکن عوام کی نظر میں اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب مقدمات کے فیصلے بروقت ہوں، زیر التوا کیسز میں نمایاں کمی آئے اور عام شہری کو کم خرچ اور تیز انصاف میسر آئے۔
چیف جسٹس نے اپنے پیغام میں ڈیجیٹل اصلاحات، عدالتی انفراسٹرکچر، ادارہ جاتی معاونت اور عدالتی تعلیم کو اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ قرار دیا، تاہم عوامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ ان اصلاحات کا اصل پیمانہ صرف ایک سوال ہے: کیا عام شہری کو بروقت اور مؤثر انصاف مل رہا ہے؟
قانونی ماہرین کے مطابق ججز کے لیے بہتر ماحول اور وسائل فراہم کرنا ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ عدالتی نظام کی کارکردگی، شفافیت اور عوام کے اعتماد میں اضافہ بھی اتنا ہی اہم ہے۔
