ایم اے، ایم ایس سی پاس بچیوں کو 8 ہزار روپے ماہانہ پر رکھا گیا، کم از کم تنخواہ کے قانون کی خلاف ورزی ہوئی: امجد علی جاوید

0
2

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکنِ پنجاب اسمبلی امجد علی جاوید نے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب میں ایم اے اور ایم ایس سی تعلیم یافتہ بچیوں کو سرکاری اسکولوں میں صرف 8 ہزار روپے ماہانہ معاوضے پر تعینات کیا گیا، جو کم از کم تنخواہ کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین کو اتنی کم رقم پر ملازمت دینا نہ صرف ان کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ یہ مقررہ کم از کم اجرت کے قوانین سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔

امجد علی جاوید نے تنقید کرتے ہوئے کہا، “آج کے حالات میں 8 ہزار روپے تو صرف رکشے کے کرائے کے برابر ہیں، اس رقم میں کسی ملازم کے لیے بنیادی اخراجات پورے کرنا بھی ممکن نہیں۔”

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسے ملازمین کے معاوضوں پر نظرثانی کی جائے اور انہیں قانون کے مطابق مناسب تنخواہ فراہم کی جائے تاکہ تعلیم یافتہ خواتین کو ان کی صلاحیت اور خدمات کے مطابق معاوضہ مل سکے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا