فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) سمیت ملک کی سات بڑی آئل کمپنیوں کو پیٹرولیم لیوی، کلائمیٹ لیوی اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں تقریباً 10 ارب روپے کی مبینہ کم ادائیگی پر نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق ایف بی آر نے درآمد شدہ پیٹرولیم مصنوعات کے ریکارڈ اور مختلف آئل ڈپوز پر آف لوڈ کیے گئے ایندھن کے اعدادوشمار کا جائزہ لینے کے بعد کمپنیوں کو نوٹس ارسال کیے۔ ایف بی آر کا مؤقف ہے کہ درآمد شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی مقدار کے مقابلے میں واجب الادا پیٹرولیم لیوی، کلائمیٹ لیوی اور کسٹمز ڈیوٹی مکمل طور پر سرکاری خزانے میں جمع نہیں کرائی گئی۔
ایف بی آر کے مطابق مجموعی طور پر 9 ارب 99 کروڑ 95 لاکھ 29 ہزار 928 روپے کی مبینہ کمی سامنے آئی ہے۔
نوٹس میں سب سے زیادہ رقم پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے ذمہ ظاہر کی گئی ہے، جو 8 ارب 19 کروڑ 80 لاکھ 79 ہزار 738 روپے بنتی ہے۔ اس کے علاوہ پوما انرجی اور پاک عرب پائپ لائن، ہائی ٹیک لبریکنٹس، بی انرجی لمیٹڈ، تاج گیسولین اور گیس اینڈ آئل پاکستان لمیٹڈ کو بھی مختلف رقوم کی ادائیگی سے متعلق نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
ایف بی آر نے تمام متعلقہ کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقررہ وقت کے اندر اپنا مؤقف، متعلقہ ریکارڈ اور مطلوبہ رقم سے متعلق وضاحت پیش کریں۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت جواب موصول نہ ہوا یا قانونی تقاضے پورے نہ کیے گئے تو قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
واضح رہے کہ یہ ایف بی آر کا ابتدائی مؤقف ہے، جبکہ متعلقہ کمپنیوں کو اپنا جواب اور وضاحت پیش کرنے کا قانونی حق حاصل ہے۔ حتمی ذمہ داری یا خلاف ورزی کا تعین قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔
