مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی، عسکری اور اقتصادی محاذوں پر مقابلہ جاری ہے، جبکہ ہر نئی پیش رفت خطے کی سلامتی پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ وہ کسی بھی حملے یا دباؤ کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ایرانی حکام متعدد مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ اگر ان پر حملہ کیا گیا تو وہ جواب دینے میں تاخیر نہیں کریں گے۔
دوسری جانب امریکا کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیوں کا مقصد اپنے مفادات، اتحادیوں اور خطے میں بحری راستوں کا تحفظ ہے۔ واشنگٹن ایران پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ خطے میں عدم استحکام کا باعث بننے والے گروہوں کی حمایت کرتا ہے، جبکہ ایران ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اس کشیدگی کا اہم مرکز رہی ہے۔ ماضی میں یہاں بحری جہازوں پر حملوں، قبضے اور مختلف عسکری واقعات کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ تاہم ہر واقعے کے بارے میں مختلف فریق مختلف دعوے کرتے ہیں، اور کئی معاملات پر بین الاقوامی سطح پر اختلافِ رائے موجود ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے محدود وسائل کے باوجود اپنی دفاعی صلاحیت، میزائل پروگرام اور علاقائی اثرورسوخ کے ذریعے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے کئی چیلنجز پیدا کیے ہیں۔ دوسری طرف امریکا اب بھی دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقتوں میں شمار ہوتا ہے اور خطے میں اس کی نمایاں فوجی موجودگی برقرار ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
فی الحال دنیا کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا سفارت کاری کو موقع ملے گا یا کشیدگی مزید بڑھے گی۔
