امریکی ارب پتی Elon Musk کی خلائی کمپنی SpaceX کے فالکن 9 راکٹ کا ایک حصہ تقریباً 5,400 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند سے ٹکرا گیا، جبکہ چلی میں نصب طاقتور دوربین نے اس تصادم کے بعد بننے والے گرد اور گیس کے بادلوں کے شواہد محفوظ کر لیے۔
یورپین سدرن آبزرویٹری کی European Southern Observatory کی ویری لارج ٹیلی اسکوپ نے 5 اگست کو ہونے والے اس تصادم کا مشاہدہ کیا۔ سائنس دانوں نے سوڈیم اور لیتھیم گیس کی روشن رنگین لکیریں ریکارڈ کیں، جو چاند کی سطح سے اٹھنے والے گرد و غبار کے بادلوں کے باعث وجود میں آئیں۔
ماہرین کے مطابق ٹیلی اسکوپ نے ان گیسوں کے “کیمیائی فنگرپرنٹس” بھی محفوظ کیے، جو تقریباً 5 سے 10 منٹ تک نمایاں رہے۔ بتایا گیا ہے کہ گرد کا یہ بادل درجنوں کلومیٹر تک پھیل گیا تھا۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ تصادم مستقبل میں چاند پر انسانی مشنز کے لیے انتہائی اہم معلومات فراہم کرے گا۔ خاص طور پر اس بات کا جائزہ لینے میں مدد ملے گی کہ انسانی ساختہ خلائی ملبہ چاند کی سطح سے ٹکرانے پر کس نوعیت کے اثرات مرتب کرتا ہے۔
چونکہ NASA مستقبل میں چاند پر مستقل انسانی بیس قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، اس لیے ایسے واقعات کا مطالعہ آئندہ خلائی مشنز کی منصوبہ بندی کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
یہ تصادم چاند کے اس حصے پر ہوا جو روشن اور تاریک علاقوں کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ گرد کے بادل سورج کی روشنی پڑنے سے چند لمحوں کے لیے چمک اٹھے، تاہم زمین سے انہیں ننگی آنکھ سے دیکھنا تقریباً ناممکن تھا۔
تصادم کے وقت چاند کے گرد گردش کرنے والا کوئی بھی سیٹلائٹ اس مقام پر موجود نہیں تھا، اس لیے براہِ راست تصاویر دستیاب نہیں ہو سکیں۔
ماہرین کے مطابق راکٹ کا یہ حصہ تقریباً پانچ منزلہ عمارت جتنا بلند اور چار ٹن وزنی تھا۔ اب ناسا کے لونر ریکونیسنس آربیٹر اور جنوبی کوریا کے لونر آربیٹر کی مدد سے تصادم کی جگہ کی تصاویر لینے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ چاند کی سطح پر کتنا بڑا گڑھا یا نقصان ہوا۔ اس تجزیے میں چند دن لگ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ اسپیس ایکس کا فالکن 9 راکٹ جنوری 2025 میں دو قمری لینڈرز کو چاند کی جانب بھیجنے کے لیے لانچ کیا گیا تھا۔ راکٹ کا ابتدائی بوسٹر تو زمین پر واپس آ گیا تھا، تاہم اوپری مرحلہ (Upper Stage) اپنا مشن مکمل کرنے کے بعد خلاء میں رہ گیا تھا، جو بالآخر چاند سے جا ٹکرایا۔
