ایران نے امریکا کو مشکل میں ڈال دیا؟ ٹرمپ جنگی دلدل میں پھنس گئے، امریکی ماہر نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

0
3

واشنگٹن: امریکا کی شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر اور معروف سیاسی تجزیہ کار Robert Pape نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر Donald Trump ایران کے خلاف جاری جنگ میں ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں ان کے لیے نہ آسانی سے پیچھے ہٹنا ممکن ہے اور نہ ہی جنگ کو مزید وسعت دینا کم خطرے کا حامل ہے۔

عرب میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں رابرٹ پیپ نے کہا کہ امریکا کی فضائی اور بحری کارروائیوں سے وقتی فوجی نتائج ضرور حاصل ہوئے، تاہم واشنگٹن اپنے بڑے اسٹریٹجک اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ ان کے بقول ایران نہ صرف امریکی دباؤ کے سامنے جھکا نہیں بلکہ جنگ کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط اور زیادہ پراعتماد انداز میں سامنے آیا ہے۔

امریکی ماہر کے مطابق موجودہ صورتحال ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا عسکری اور سیاسی امتحان بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب امریکی صدر کے پاس دو ہی بڑے راستے رہ گئے ہیں؛ یا تو وہ ایران کے بڑھتے ہوئے علاقائی اثر و رسوخ کو تسلیم کرتے ہوئے جنگ کے خاتمے کی جانب بڑھیں، یا پھر مزید فوجی کارروائیوں کے ذریعے تنازع کو وسیع کریں، جس کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔

رابرٹ پیپ نے کہا کہ اگر امریکا مزید عسکری دباؤ بڑھاتا ہے تو یہ تنازع پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ ان کے مطابق فضائی اور بحری حملوں سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے کی صورت میں واشنگٹن زمینی کارروائی پر بھی غور کر سکتا ہے، تاہم ایسا فیصلہ جنگ کو کہیں زیادہ پیچیدہ اور مہنگا بنا دے گا۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات سے قبل کسی نمایاں فوجی کامیابی کی تلاش میں مزید جارحانہ حکمت عملی اختیار کر سکتے ہیں، لیکن ایران کے خلاف زمینی محاذ کھولنا امریکا کے لیے ایک طویل اور مشکل جنگ کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ تجزیہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ مسلسل دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی، تاہم رابرٹ پیپ کے مطابق زمینی حقائق اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں اور ایران کی مزاحمت نے امریکی حکمت عملی کو غیر متوقع چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔

نوٹ: اس خبر میں بیان کردہ یہ تاثر کہ “ایران جیت گیا” یا “امریکا شکست کھا گیا” ایک تجزیہ نگار کی رائے اور موجودہ حالات کی تشریح ہے، نہ کہ کسی حتمی یا سرکاری نتیجے کا اعلان۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا