کوپن ہیگن: ڈنمارک کی 19 سالہ شہزادی ازابیلا نے شاہی زندگی کی آسائشوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے فوجی یونیفارم پہن لی۔ انہوں نے 3 اگست سے اپنی 11 ماہ کی لازمی فوجی سروس کا آغاز کر دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ ڈنمارک کے شاہی خاندان کی تاریخ میں مکمل لازمی فوجی تربیت حاصل کرنے والی پہلی خاتون شہزادی بن گئی ہیں۔
شہزادی ازابیلا، بادشاہ فریڈرک دہم اور ملکہ میری کی بڑی صاحبزادی ہیں۔ اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے براہِ راست فوجی رجمنٹ میں رپورٹ کیا اور دیگر نوجوان بھرتی ہونے والوں کی طرح تربیت کا آغاز کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ شاہی خاندان کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ شہزادی نے فوجی سروس کے دوران ملنے والی تنخواہ اور یومیہ الاؤنس لینے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس دوران اپنے ذاتی اخراجات والدین کی مالی معاونت سے پورے کریں گی۔
اس سے قبل ان کے بڑے بھائی اور ولی عہد شہزادہ کرسچین بھی فوجی تربیت مکمل کر چکے ہیں، تاہم شہزادی ازابیلا کی شمولیت کو ڈنمارک میں خواتین کے لیے فوجی خدمات کے نئے دور کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ ڈنمارک نے 2024 میں یورپ کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال، یوکرین جنگ اور آرکٹک خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر خواتین کے لیے بھی لازمی فوجی سروس متعارف کروائی تھی، جبکہ فوجی تربیت کی مدت 4 ماہ سے بڑھا کر 11 ماہ کر دی گئی۔
رواں ہفتے تقریباً 1,600 نوجوانوں نے فوجی تربیت کا آغاز کیا، جبکہ اسی ماہ پہلی مرتبہ کچھ اہلکاروں کو گرین لینڈ میں بھی تعینات کیا جائے گا، جہاں خطے کی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
