پنجاب پولیس کے خصوصی پٹرولنگ یونٹ ڈولفن فورس کے مستقبل کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ پولیس میں ڈولفن فورس کے موجودہ ڈھانچے پر نظرثانی کی تجویز زیرِ غور ہے، جس کے تحت اہلکاروں کو مختلف تھانوں میں تعینات کیے جانے کی سفارش کی گئی ہے۔ تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا اور آخری منظوری وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے دی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ پولیس کی جانب سے مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں ڈولفن فورس کے اہلکاروں کو تھانوں میں شامل کر کے گشت، جرائم کی روک تھام، فوری رسپانس اور روزمرہ پولیسنگ کو مزید مؤثر بنانے کی تجویز بھی شامل ہے۔
ڈولفن فورس کا قیام 2016 میں لاہور سے کیا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد موٹر سائیکلوں پر فوری رسپانس، اسٹریٹ کرائم کی روک تھام، شہری علاقوں میں گشت اور ہنگامی صورتحال میں بروقت کارروائی کرنا تھا۔ بعد ازاں اس فورس کا دائرہ کار پنجاب کے دیگر بڑے شہروں تک بھی بڑھایا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق زیرِ غور تجویز کا مقصد دستیاب افرادی قوت کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنا، تھانوں میں نفری کی کمی پوری کرنا اور جرائم کے خلاف کارروائی کو مزید بہتر بنانا ہے۔
دوسری جانب بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اگر ڈولفن فورس کے الگ تشخص کو ختم کیا گیا تو اس کی فوری رسپانس صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ اہلکاروں کی تھانوں میں تعیناتی سے مقامی پولیس کی استعداد میں اضافہ ہوگا۔
تاحال پنجاب حکومت یا پولیس کی جانب سے ڈولفن فورس کو ختم کرنے کا کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ اس لیے اس معاملے پر حتمی فیصلہ وزیراعلیٰ پنجاب کی منظوری کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
