21 سالہ نیتھن تھامس نے 306 سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا، دنیا کے کم عمر ترین مرد پروفیسر بن گئےامریکا کے نوجوان انجینئر نیتھن تھامس نے غیرمعمولی تعلیمی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 306 سال پرانا گنیز ورلڈ ریکارڈ توڑ دیا اور دنیا کے کم عمر ترین مرد پروفیسر کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔ ان کی حیران کن کامیابی کے بعد سوشل میڈیا پر ان کا موازنہ مشہور ٹی وی سیریز “دی بگ بینگ تھیوری” کے ذہین کردار شیلڈن کوپر سے کیا جا رہا ہے۔
نیتھن تھامس نے محض 18 سال، 11 ماہ اور 11 دن (18 سال اور 346 دن) کی عمر میں میامی ڈیڈ کالج میں انجینئرنگ کے پروفیسر کی حیثیت سے تقرری حاصل کر کے یہ منفرد ریکارڈ قائم کیا۔
اس سے قبل یہ اعزاز اسکاٹ لینڈ کے معروف ریاضی دان کولن میک لارن کے پاس تھا، جنہوں نے 1717 میں 19 سال کی عمر میں پروفیسر بن کر تاریخ رقم کی تھی۔
نیتھن کی تعلیمی صلاحیتیں بچپن ہی سے غیرمعمولی تھیں۔ انہوں نے صرف 10 سال کی عمر میں کالج کی سطح کی تعلیم شروع کی، جبکہ 14 سال کی عمر میں فلوریڈا انٹرنیشنل یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کر لیا۔
صرف 18 سال کی عمر تک وہ الیکٹریکل انجینئرنگ میں بیچلرز اور ماسٹرز کی ڈگریاں اعلیٰ اعزاز کے ساتھ مکمل کر چکے تھے۔
اگست 2023 میں نیتھن اسی ادارے میامی ڈیڈ کالج میں بطور پروفیسر واپس آئے، جہاں وہ کمپیوٹنگ اور پروگرامنگ کے مضامین پڑھانے لگے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے کئی طلبہ عمر میں ان کے ہم عمر یا ان سے بڑے تھے۔
جب ان سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو نیتھن نے کہا، “کلاس روم میں عمر کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، سب یہاں سیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ میں دوسروں کو پڑھاتے ہوئے خود بھی ہر روز کچھ نیا سیکھتا ہوں۔”
اب 21 سالہ نیتھن تھامس نہ صرف تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں بلکہ آن لائن تعلیم بھی دے رہے ہیں، جبکہ ساتھ ہی یونیورسٹی آف میامی سے قانون (Law) کی ڈگری بھی حاصل کر رہے ہیں۔ ان کی کامیابی کو دنیا بھر میں نوجوانوں کے لیے محنت، لگن اور علم دوستی کی ایک شاندار مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
