کیا واقعی مسئلہ صرف نظام کا ہے؟

0
1

حالیہ دنوں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ “ملکی نظام کولیپس کر چکا ہے، اسے بدلے بغیر ملک نہیں چل سکتا۔” اس کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے بھی گڈ گورننس کے فقدان اور نئے صوبے بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

یہ بیانات کئی اہم سوالات کو جنم دیتے ہیں۔

اگر یہی نظام 1947 سے پاکستان میں کسی نہ کسی شکل میں چلتا آ رہا ہے تو آخر آج اچانک یہ مکمل طور پر “کولیپس” کیسے ہو گیا؟ کیا اس کی وجوہات صرف نظام میں ہیں، یا اس نظام کو چلانے والوں کی کارکردگی، پالیسیوں اور فیصلوں میں بھی تلاش کی جانی چاہئیں؟

اسی طرح نئے صوبے بنانے کی تجویز بھی زیرِ بحث ہے۔ یقیناً بہتر انتظامی تقسیم بعض حالات میں فائدہ مند ہو سکتی ہے، لیکن کیا صرف نئے صوبے بنا دینے سے پاکستان کے معاشی مسائل حل ہو جائیں گے؟ کیا مہنگائی، بے روزگاری، قرضوں کا بوجھ، صنعتوں کی بندش اور سرمایہ کاری میں کمی جیسے بنیادی مسائل خودبخود ختم ہو جائیں گے؟

پہلے ہی پاکستان میں وفاق، چار صوبائی حکومتیں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت متعدد حکومتی ڈھانچے موجود ہیں، جن کے اخراجات قومی خزانے پر بھاری بوجھ ہیں۔ اگر مزید صوبے بنائے جاتے ہیں تو نئی اسمبلیاں، نئی کابینہ، نئے گورنر، نئی بیوروکریسی اور مکمل انتظامی ڈھانچہ بھی درکار ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ معاشی حالات میں ملک اس اضافی مالی بوجھ کا متحمل ہو سکتا ہے؟

دوسری طرف عام پاکستانی مہنگائی، بے روزگاری اور کم ہوتی قوتِ خرید سے پریشان ہے۔ فی کس آمدنی خطے کے کئی ممالک سے پیچھے رہ چکی ہے، جبکہ دوسری جانب حکمران اور بااثر طبقات کو ملنے والی مراعات، سرکاری سہولیات، بڑی تنخواہیں، مفت بجلی، سرکاری گاڑیاں، ایندھن اور مختلف الاؤنسز مسلسل عوامی بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔

ملکی معیشت کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ متعدد صنعتیں بند ہو چکی ہیں، کئی سرمایہ کار اپنا سرمایہ بیرونِ ملک منتقل کر چکے ہیں، جبکہ مختلف کمپنیوں نے بھی اپنے کاروبار دوسرے ممالک منتقل کیے ہیں۔ ایسے حالات میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخر سرمایہ کاروں کا اعتماد کیوں مجروح ہوا اور انہیں ملک چھوڑنے پر کس چیز نے مجبور کیا؟

یہ تمام سوالات کسی ایک ادارے یا فرد کے خلاف نہیں بلکہ ایک ایسے قومی مکالمے کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس میں ریاست کے تمام ادارے، سیاسی قیادت، کاروباری طبقہ اور سول سوسائٹی مل کر دیانت داری سے جائزہ لیں کہ پاکستان کو درپیش اصل مسائل کیا ہیں اور ان کا پائیدار حل کیسے نکالا جا سکتا ہے۔

پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت شفاف احتساب، مؤثر گورننس، معاشی اصلاحات، قانون کی بالادستی اور عوامی اعتماد کی بحالی کی ہے۔ کیونکہ مضبوط ریاستیں صرف نئے انتظامی ڈھانچے بنانے سے نہیں بلکہ انصاف، شفافیت، جوابدہی اور عوامی فلاح کو ترجیح دینے سے مضبوط ہوتی ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا