سپین میں غیر قانونی نقل مکانی پر سخت کارروائی، 48 ہزار سے زائد مراکشی واپس، باقیوں کی واپسی بھی جاری

0
1

سپین نے شمالی افریقی انکلیو سیوٹا میں حالیہ بڑے پیمانے پر ہونے والی غیر قانونی نقل مکانی کے بعد واپسی کا عمل تیز کر دیا ہے۔ ہسپانوی حکام کے مطابق اب تک 48 ہزار 300 سے زائد مراکشی شہری واپس مراکش جا چکے ہیں یا انہیں واپس بھیج دیا گیا ہے، جبکہ باقی رہ جانے والے افراد کی واپسی کا عمل بھی جاری ہے۔

رپورٹس کے مطابق جولائی کے آخر میں صرف چند گھنٹوں کے دوران 50 سے 60 ہزار افراد مراکش سے سیوٹا میں داخل ہوئے، جس کے باعث سرحدی شہر میں شدید افراتفری پھیل گئی۔ اس دوران بھگدڑ اور سمندر کے راستے داخل ہونے کی کوششوں میں کم از کم 72 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک ہزار سے زائد افراد کو طبی امداد فراہم کرنا پڑی۔

ہسپانوی حکومت کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں افراد نے خود بھی مراکش واپس جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ انہیں معلوم ہوا کہ سیوٹا پہنچنے سے یورپی یونین کے دیگر ممالک میں داخلے یا قانونی رہائش کی کوئی ضمانت نہیں ملتی۔ حکام کے مطابق سوشل میڈیا پر پھیلنے والی گمراہ کن معلومات اور انسانی اسمگلروں کے جھوٹے وعدوں نے اس غیر معمولی ہجوم کو جنم دیا۔

وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اس واقعے کو سپین کی خودمختاری کے لیے ایک سنگین چیلنج قرار دیتے ہوئے سرحدی نگرانی مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی ممالک میں بھی اس بحران کے بعد غیر قانونی نقل مکانی، سرحدی سلامتی اور یورپی امیگریشن پالیسی پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سیوٹا میں موجود باقی افراد کی شناخت، قانونی جانچ اور واپسی کا عمل جاری ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا