لاہور ہائی کورٹ کا کرپٹو کرنسی اور USDT ٹریڈنگ پر اہم فیصلہ، صرف بینک ٹرانزیکشن کو جرم قرار نہیں دیا جا سکتا

0
1

لاہور ہائی کورٹ نے کرپٹو کرنسی، USDT/P2P ٹریڈنگ اور ضمانت قبل از گرفتاری سے متعلق ایک اہم فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صرف کسی شخص کے بینک اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہونے یا P2P ٹرانزیکشن میں شامل ہونے کی بنیاد پر اسے مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔

مسٹر جسٹس طارق سلیم شیخ نے Criminal Misc. No. 1974-B of 2026 میں درخواست گزاروں کی ضمانت قبل از گرفتاری برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا کہ مقدمے کے موجودہ ریکارڈ کی بنیاد پر ان کے خلاف ابتدائی طور پر جرم ثابت نہیں ہوتا۔

مقدمے کے مطابق شکایت کنندہ نے الزام لگایا تھا کہ آن لائن پلیٹ فارم پر USDT کی P2P ٹریڈنگ کے دوران اس کے ساتھ فراڈ ہوا، جس کے نتیجے میں اس کے اکاؤنٹس منجمد ہوئے اور مختلف افراد کے بینک اکاؤنٹس میں رقوم منتقل ہوئیں۔ ایف آئی آر میں ان افراد کو بھی نامزد کیا گیا جن کے اکاؤنٹس میں رقم آئی تھی۔

درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ وہ صرف P2P مرچنٹس تھے، جو پاکستانی روپے وصول کرکے اس کے بدلے USDT منتقل کرتے تھے۔ ان کا کسی دھوکہ دہی، جعلی دستاویز، جعلی الیکٹرانک ریکارڈ یا شکایت کنندہ کے اکاؤنٹ منجمد کرانے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ صرف بینک اکاؤنٹ میں رقم آنا کسی شخص کے فراڈ میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں بن سکتا۔ تفتیشی ادارے پر لازم ہے کہ ہر ملزم کا کردار الگ الگ ثابت کرے، کیونکہ فوجداری ذمہ داری ہمیشہ انفرادی ہوتی ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعات 468 اور 471 اسی وقت لاگو ہوں گی جب جعلی دستاویز یا جعلا الیکٹرانک ریکارڈ موجود ہو، جبکہ PECA کی دفعات 13 اور 14 صرف اس صورت میں لاگو ہوں گی جب الیکٹرانک فراڈ، ڈیٹا میں ردوبدل یا بدنیتی سے کمپیوٹر سسٹم استعمال کرنے کے شواہد موجود ہوں۔

فیصلے میں عدالت نے یہ بھی کہا کہ صرف USDT کا امریکی ڈالر سے منسلک ہونا اسے خودکار طور پر Foreign Currency یا Foreign Exchange نہیں بناتا، اس لیے FERA کی دفعات بھی ہر ایسے مقدمے میں خودبخود لاگو نہیں ہوتیں۔

عدالت نے بھارتی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر قانون کسی ورچوئل اثاثے کو کرنسی قرار نہیں دیتا تو عدالت بھی اسے محض استعمال کی بنیاد پر کرنسی قرار نہیں دے سکتی۔

چونکہ درخواست گزار تفتیش میں شامل رہے، عبوری ضمانت کا غلط استعمال ثابت نہیں ہوا اور جسمانی ریمانڈ کی ضرورت بھی سامنے نہیں آئی، اس لیے لاہور ہائی کورٹ نے ان کی قبل از گرفتاری ضمانت برقرار رکھتے ہوئے ہر درخواست گزار کو 10 لاکھ روپے کے مچلکے اور اسی مالیت کا ایک ضامن جمع کرانے کا حکم دیا۔

عدالتی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی، USDT/P2P ٹریڈنگ، PECA، FERA اور ضمانت قبل از گرفتاری سے متعلق مستقبل کے مقدمات کے لیے ایک اہم قانونی نظیر بن سکتا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا