بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اور ہزارہ یونیورسٹی میں تعلیمی اشتراک کا نیا باب، اساتذہ کے تبادلے اور عربی زبان کے فروغ پر اتفاق

0
1

مانسہرہ: بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے صدر اور قائم مقام ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے ہزارہ یونیورسٹی کا دورہ کیا، جہاں دونوں جامعات نے تعلیمی و تحقیقی تعاون کو مزید وسعت دینے، اساتذہ کے تبادلے اور عربی زبان کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر عملی پیش رفت تیز کرنے پر اتفاق کیا۔

اس موقع پر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے نائب صدر برائے انتظامی و مالیاتی امور پروفیسر ڈاکٹر عبدالرشید بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ڈاکٹر احمد سعد الاحمد وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف کی دعوت پر بطور مہمانِ خصوصی مانسہرہ پہنچے، جہاں انہوں نے ہزارہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اکرام اللہ خان سے ملاقات کی اور بعد ازاں فیکلٹی اور یونیورسٹی قیادت سے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض سفارتی نہیں بلکہ اخوت، اعتماد اور مشترکہ اسلامی اقدار پر استوار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کے ساتھ اپنے مضبوط برادرانہ تعلقات پر فخر کرتا ہے اور دونوں ممالک ہر میدان میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔

انہوں نے تقویٰ کے اسلامی تصور پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ پر عمل ہی مسلمانوں کی کامیابی کا حقیقی راستہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جامعات صرف ڈگریاں دینے والے ادارے نہیں بلکہ وہ مراکز ہیں جہاں مستقبل کے رہنما، محققین اور ذمہ دار شہری تیار کیے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اور ہزارہ یونیورسٹی کے درمیان علمی تعاون، مشترکہ تحقیق اور تجربات کے تبادلے سے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے اپنے خطاب میں دونوں جامعات کے درمیان تعاون کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے تجویز پیش کی کہ اسلامیات، شریعہ، قانون، عربی زبان اور تحقیق کے شعبوں میں مشترکہ منصوبے، اساتذہ و طلبہ کے تبادلے، سیمینارز، کانفرنسز اور نصاب سازی کے حوالے سے باقاعدہ اشتراک کو فروغ دیا جائے۔

انہوں نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کو ملک کے ممتاز علمی اداروں میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے فارغ التحصیل طلبہ دنیا بھر میں تدریس، قانون، عدلیہ، انتظامیہ اور بین الاقوامی اداروں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

سردار محمد یوسف نے ہزارہ یونیورسٹی کے کیمپس میں سعودی عرب کے تعاون سے تعمیر ہونے والی شاہ عبدالعزیز مسجد کو دونوں برادر ممالک کے مضبوط تعلقات کی روشن علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسجد نہ صرف طلبہ و طالبات کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے بلکہ پاکستان اور سعودی عرب کی دیرینہ دوستی، باہمی اعتماد اور مشترکہ ایمان کی بھی عکاس ہے۔ انہوں نے اس موقع پر سعودی حکومت کے پاکستان کے ساتھ ہر مشکل وقت میں تعاون کو بھی سراہا۔

دورے کے دوران ڈاکٹر احمد سعد الاحمد اور یونیورسٹی حکام نے اساتذہ کے تبادلے اور عربی زبان کے فروغ سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر مؤثر عمل درآمد کے لیے عملی اقدامات تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

اس سے قبل استقبالیہ خطاب میں ہزارہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اکرام اللہ خان نے جامعہ کا تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہزارہ یونیورسٹی خیبرپختونخوا کی صفِ اول کی جامعات میں شمار ہوتی ہے، جو دو کیمپسز اور چار فیکلٹیز پر مشتمل ہے۔ انہوں نے شاہ عبدالعزیز مسجد کی تعمیر پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی اپنے اسلامک سینٹر کے ذریعے عربی زبان کی تعلیم و تدریس کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔

تقریب کے اختتام پر مہمان وفد نے ہزارہ یونیورسٹی میں قائم شاہ عبدالعزیز مسجد کا دورہ کیا، جبکہ وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے مہمانوں اور یونیورسٹی حکام کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا