لاہور میں ٹریفک پولیس کی نئی یونیفارم متعارف کرانے کے تقریباً ایک سال بعد ہی اسے تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ حکام نے ٹریفک وارڈنز کو دوبارہ پرانے طرز کی وردی فراہم کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹریفک پولیس اب سفید شرٹ اور نیلی پینٹ کی بجائے دوبارہ بلش گرے رنگ کی یونیفارم پہنیں گی، جو ماضی میں بھی ٹریفک وارڈنز کی شناخت سمجھی جاتی تھی۔
یاد رہے کہ سابق چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) اطہر وحید کے دور میں ٹریفک وارڈنز کی یونیفارم تبدیل کی گئی تھی۔ اس وقت ہر وارڈن کو نئی وردی کی خریداری کے لیے 5 ہزار روپے بھی فراہم کیے گئے تھے۔
یونیفارم کی دوبارہ تبدیلی کے حوالے سے ڈی آئی جی لاجسٹکس کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اے آئی جی لاجسٹکس اور ڈی ایس پی ٹریفک ہیڈ کوارٹرز سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں نئی پالیسی اور یونیفارم کے معیار پر غور کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی جی پنجاب کی ہدایت پر پنجاب پولیس کے تمام یونٹس کو ایک مربوط پالیسی کے تحت یونیفارم فراہم کی جائے گی، تاہم پنجاب ہائی وے پٹرول اپنی موجودہ وردی کے ڈیزائن اور پیٹرن کو برقرار رکھے گی۔
ٹریفک پولیس کی یونیفارم میں ایک سال کے اندر دوبارہ تبدیلی کے فیصلے نے اس اقدام کی افادیت اور اخراجات کے حوالے سے بھی کئی سوالات کو جنم دیا ہے، جبکہ شہریوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی اس فیصلے پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔
