دہلی میں طلبہ احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا، مودی کی پہلی براہِ راست مداخلت، فاسٹ ٹریک عدالتوں اور سخت سزاؤں کا اعلان

0
1

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے خلاف جاری طلبہ احتجاج نے نئی شدت اختیار کر لی ہے۔ بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے بعد وزیرِاعظم نریندر مودی نے پہلی بار اس معاملے پر براہِ راست ردِعمل دیتے ہوئے امتحانی دھاندلی میں ملوث افراد کو سخت سزا دینے اور مقدمات کی فوری سماعت کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اپنے ویڈیو پیغام میں مودی کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور جو لوگ امتحانی نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے انہیں قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔ تاہم انہوں نے طلبہ کے اس مطالبے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جس میں وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری احتجاج کے دوران ہزاروں طلبہ نے نئی دہلی کے جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا، جہاں پولیس نے انہیں روکنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ پولیس کے مطابق متعدد اہلکار زخمی ہوئے جبکہ درجنوں مظاہرین کو حراست میں لیا گیا، جبکہ طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ کئی مظاہرین بھی زخمی ہوئے۔

اس تنازع کے بعد دہلی ہائی کورٹ نے امتحانی بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اور نقل سے متعلق مقدمات کی جلد سماعت کے لیے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالت قائم کر دی ہے۔ دوسری جانب طلبہ کا مؤقف ہے کہ صرف عدالتی اقدامات کافی نہیں، بلکہ امتحانی نظام میں شفاف اصلاحات، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی اور ان کے دیگر مطالبات پر بھی عمل درآمد ضروری ہے۔

اپوزیشن جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے پرامن احتجاج کے حق کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ طلبہ تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ مطالبات پورے ہونے تک ان کی احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا