ہالی ووڈ اداکارہ جینیفر گارنر نے انکشاف کیا ہے کہ پاپارازی (مشہور شخصیات کی تصاویر لینے والے فوٹوگرافر) ان اور ان کے بچوں کی تصاویر حاصل کرنے کے لیے خطرناک حد تک آگے بڑھ جاتے تھے، جس سے ان کے خاندان کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی۔
ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے جینیفر گارنر نے بتایا کہ بعض اوقات جیسے ہی وہ گاڑی میں سفر کرتیں، درجنوں پاپارازی ان کا تعاقب شروع کر دیتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ زرد سگنل پر گزر جاتیں تو ان کے پیچھے آنے والی تقریباً 15 گاڑیاں سرخ بتی توڑ کر بھی ان کا پیچھا جاری رکھتیں، جس سے نہ صرف ان کی بلکہ دوسرے شہریوں کی جان بھی خطرے میں پڑ جاتی۔
اداکارہ کے مطابق فوٹوگرافر بہتر تصاویر لینے کے لیے لوگوں کے گھروں کے لان اور پہاڑی ڈھلوانوں تک پر گاڑیاں چڑھا دیتے تھے۔ انہوں نے ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ اپنے کم عمر بچے کو فٹبال کھیلانے لے گئیں تو وہاں بھی تقریباً 20 پاپارازی گاڑیاں پہنچ گئیں، جس پر مقامی اسپورٹس ایسوسی ایشن نے ان سے درخواست کی کہ وہ بچے کو وہاں نہ لائیں کیونکہ اس صورتحال سے دیگر بچوں اور خاندانوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
جینیفر گارنر کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ صرف ان کے خاندان تک محدود نہیں تھا بلکہ اس وقت پاپارازی کلچر اس حد تک بے قابو ہو چکا تھا کہ مشہور شخصیات اور ان کے بچوں کی نجی زندگی بری طرح متاثر ہو رہی تھی۔
واضح رہے کہ جینیفر گارنر اور ان کے سابق شوہر بین ایفلک کی نجی زندگی ماضی میں بھی پاپارازی کی مسلسل توجہ کا مرکز رہی ہے، جبکہ دونوں نے کئی مواقع پر اپنے بچوں کی پرائیویسی کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
